اسلام آباد: دفتر خارجہ نے امریکا سے 150 افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے کابل ڈی پورٹ کرنے کے معاملے پر کہا ہے کہ پاکستان اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے رابطے میں ہے اور اس معاملے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت جاری ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس معاملے کا ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس پر تمام متعلقہ فریق اتفاق کرسکیں۔
ترجمان نے بریفنگ میں علاقائی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آر فور کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے 24 اکتوبر کو اردن میں چرچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔ 28 اکتوبر کو مکہ ڈیفنس الائنس کے سیکریٹری جنرل نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
ترجمان کے مطابق اسلام آباد میں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا، جس میں انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کا اجلاس 15 اور 16 نومبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔ اسحاق ڈار نے تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ اجلاس میں علاقائی تعاون کے فروغ سے متعلق اہم امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گندھارا تہذیب سے متعلق ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہندو اور سکھ مذاہب کے مقدس مقامات بھی موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 4 ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری بھی قائم کی ہے اور وہ سکھ یاتریوں سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارت نے مئی 2025 کے بعد سکھ یاتریوں کی آمد منسوخ کردی، جبکہ پاکستان کی جانب سے بھارتی مذہبی زائرین کو 9 ہزار 248 ویزے جاری کیے گئے۔







