شعیب جمیل
خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال مقرر ہونے کے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی، جس میں صوبے میں شادی کی قانونی عمر 16 سے بڑھا کر 18 سال مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست لینا قمر اور ماہم نفیس نے عمران خان اور کاشف نسیم ایڈووکیٹس کی وساطت سے دائر کی، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، سیکرٹری قانون سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر تاحال 16 سال ہے، جبکہ ملک کے دیگر صوبوں اور اسلام آباد میں اسے 18 سال مقرر کیا جا چکا ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اسلام آباد، سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں متعلقہ قوانین میں تبدیلی کی گئی، تاہم خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہی برقرار ہے۔درخواست میں مزید مقف اپنایا گیا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کے باعث خاندانی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، لہذا خیبرپختونخوا میں بھی لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال مقرر کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی جائے۔







