پشاور بورڈ کے امتحانی ہالوں سے طلبہ کو مبینہ طور پر نکالنے کی شکایات

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) پشاور کے زیر اہتمام جاری دوسرے سالانہ امتحانات کے دوران مبینہ طور پر طلبہ کو امتحانی ہالوں سے نکالنے کی شکایات سامنے آئی ہیں، جس پر طلبہ اور والدین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ حکام سے فوری نوٹس لینے اور امتحانی قواعد پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
طلبہ اور والدین کا کہنا ہے کہ بعض امتحانی نگران اور سپرنٹنڈنٹس امیدواروں کے پاس نقل کے لیے غیرمجاز نوٹس یا دیگر مواد ملنے پر مقررہ ضابطہ کار کے مطابق کارروائی کرنے کے بجائے انہیں امتحانی ہالوں سے باہر نکال رہے ہیں۔ان کے مطابق بورڈ کے امتحانی قواعد میں محض نقل کے لیے استعمال ہونے والا مواد رکھنے پر امیدوار کو امتحانی ہال سے نکالنے کی اجازت نہیں، بلکہ متعلقہ عملہ ایسا مواد ضبط کرکے امیدوار کے خلاف ناجائز ذرائع استعمال کرنے (یو ایف ایم) کا کیس بنا کر بورڈ کو بھجوا سکتا ہے۔
والدین اور طلبہ نے چیئرمین پشاور بورڈ اور کنٹرولر امتحانات سے مطالبہ کیا ہے کہ ان شکایات کی تحقیقات کی جائیں اور امتحانی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے نگرانوں اور سپرنٹنڈنٹس کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ایسا ہی ایک واقعہ مبینہ طور پر نجی ہال  میں پیش آیا، جہاں ایک امتحانی نگران نے طالب علم کے پاس کاغذ کا ایک ٹکڑا ملنے پر اسے امتحانی ہال سے باہر نکال دیا۔ طالب علم کی جانب سے احتجاج کرنے پر اسے مبینہ طور پر دھمکی بھی دی گئی کہ اگر اس نے بحث جاری رکھی تو اس کے خلاف ناجائز ذرائع استعمال کرنے کا کیس بنا دیا جائے گا۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر پشاور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات نے تصدیق کی کہ امتحانی نگرانوں کو نقل کے الزامات پر طلبہ کو امتحانی ہالوں سے نکالنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امتحانی عملہ صرف غیرمجاز مواد ضبط کرکے امیدوار کے خلاف یو ایف ایم کیس بنا سکتا ہے، جس پر مزید کارروائی بورڈ کرے گا۔کنٹرولر امتحانات نے یقین دہانی کرائی کہ پیش آنے والے واقعے کی طالب علم کی شکایت کی روشنی میں انکوائری کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed