ہلال احمر پاکستان نے ہلال احمر ترکیہ کے اشتراک سے پشاور میں واقع دیر کالونی سکول میں پیش آنے والے المناک واقعے سے متاثرہ 70 خاندانوں میں اشیائے خورونوش کے پیکج تقسیم کیے۔ہر خاندان کو 54 کلوگرام پر مشتمل فوڈ پیکج فراہم کیا گیا جس میں آٹا، چاول، کوکنگ آئل، مسور کی دال، مونگ کی دال، سفید چنے، چینی، چائے اور نمک سمیت روزمرہ استعمال کی بنیادی غذائی اشیا شامل تھیں۔اس امدادی اقدام کا مقصد متاثرہ خاندانوں کی فوری غذائی ضروریات پوری کرنے اور انہیں مشکل حالات میں سہارا فراہم کرنا ہے۔دیر کالونی سکول کے اس افسوسناک واقعے میں متعدد معصوم طلبہ اور اساتذہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔اس موقع پر ہلال احمر پاکستان کے سیکرٹری جنرل محمد عبیداللہ خان نے کہا کہ ہلال احمر پاکستان اس المناک سانحے سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور مشکلات میں برابر کا شریک ہے۔ معصوم بچوں اور اساتذہ کا جانی نقصان انتہائی افسوسناک ہے اور متاثرہ خاندان اس وقت جن کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں ان کا احساس پوری انسانیت کو ہے۔انہوں نے کہا کہ ہلال احمر پاکستان نے اس اقدام کے تحت 70 خاندانوں کو فوری غذائی امداد فراہم کی ہے۔ انہوں نے ترکیہ ہلال احمر کے قابلِ قدر تعاون کو سراہتے ہوئے چیئرپرسن ہلال احمر پاکستان محترمہ فرزانہ نائیک کی رہنمائی اور قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن کی بدولت ادارے کا انسانی ہمدردی پر مبنی ردعمل اور کمزور طبقات کی خدمت کا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔پاکستان میں ترکیہ ہلال احمر کے سربراہ مسٹر کان سانر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم انسانی ہنگامی حالات اور مشکلات سے دوچار آبادیوں کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔ہلال احمر پاکستان کے ساتھ اشتراک دونوں قومی سوسائٹیز کے درمیان دیرینہ دوستی، یکجہتی اور انسانی ہمدردی پر مبنی تعاون کا عکاس ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فراہم کردہ غذائی امداد متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں کسی حد تک کمی لانے میں معاون ثابت ہوگی۔انہوں نے ہلال احمر پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ضرورت مند اور کمزور طبقات کی معاونت کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔چیئرمین ہلال احمر خیبر پختونخوا برانچ فرزند علی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ دیر کالونی سکول کا واقعہ متاثرہ خاندانوں اور پوری مقامی آبادی کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے۔ ایسے مشکل حالات میں متاثرین کے ساتھ کھڑا ہونا اور انہیں عملی انسانی امداد فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے







