ریاض میں شامی صدر احمد الشرع اور سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا اور علاقائی سکیورٹی میں بہتری لانا ہے۔ اس اہم دورے کے دوران شام اور سعودی عرب نے دفاعی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کا تاریخی معاہدہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سعودی حکومت نے شام میں زراعت، صحت، توانائی، رہائش اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے 403 ملین ڈالر سے زائد رقم پر مشتمل رعایتی قرضہ جات کی فراہمی کی بھی منظوری دے دی ہے۔ شامی وزارتِ خارجہ نے اس دفاعی معاہدے کو اس سرکاری دورے کی سب سے نمایاں پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم تاحال سکیورٹی شراکت داری کی تفصیلی نوعیت اور طریقہ کار کے حوالے سے آگاہی نہیں دی گئی۔ یہ معاہدہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر دفاعی صلاحیتوں کی مضبوطی کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔







