شعیب جمیل
ممتاز مذہبی سکالر اور خیبر پختونخوا کے مشیر برائے مذہبی و اقلیتی امور مولانا محمد طیب قریشی نے کہا ہے کہ چین کی غیر معمولی ترقی اور وہاں کے عوام کی خوشحالی پاکستان کیلئے ایک بہترین مثال ہے۔ پاکستان کو چین کے ترقیاتی ماڈل اور کامیاب تجربات سے استفادہ کرنا چاہیے اور اپنے ملکی حالات’ ضروریات اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پشاور میں قائم چینی ثقافتی و اطلاعاتی مرکز چائنہ ونڈو کے دورے کے موقع پر کیا۔ اس دوران انہوں نے مرکز کی مختلف گیلریوں کا تفصیلی معائنہ کیا، مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے اور فرینڈشپ وال پر دستخط کرتے ہوئے پاک چین دوستی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔مولانا محمد طیب قریشی نے چائنہ ونڈو کو ایک شاندار اور متاثر کن ثقافتی مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں چین کی تاریخ، تہذیب و ثقافت، ترقی اور پاک چین تعلقات کے مختلف پہلوں کو نہایت خوبصورتی اور مثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے ثقافتی مراکز دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے، باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور دوستی کے رشتوں کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔صوبائی مشیر نے کہا کہ انہیں تین مرتبہ چین کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور ہر بار وہ چین کی حیرت انگیز ترقی، عوام کے معیارِ زندگی اور مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے بے حد متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی، مثر منصوبہ بندی اور قومی یکجہتی کے ذریعے ترقی کی جو منازل طے کی ہیں، وہ دنیا کے دیگر ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ چین کی کامیابی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ اگر کوئی قوم مستقل مزاجی اور درست حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھے تو ترقی اور خوشحالی کی بلند ترین منازل حاصل کی جا سکتی ہیں۔مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی اصل طاقت ان کے عوام کے درمیان پائی جانے والی محبت، خلوص اور خیرسگالی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین دوستی کے اس عظیم رشتے کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ نوجوان نسل دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات، مشترکہ مفادات اور باہمی تعاون کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہو سکے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے چین کے ترقیاتی تجربات سے استفادہ کرنے اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے حوالے سے اظہار کردہ خیالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کے کامیاب تجربات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، زراعت، صنعت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون پاکستان کی معاشی ترقی اور عوام کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔مولانا محمد طیب قریشی نے چائنہ ونڈو کی انتظامیہ کی خدمات اور کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پشاور میں قائم یہ ثقافتی مرکز پاک چین دوستی کی ایک خوبصورت اور روشن علامت ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ چائنہ ونڈو مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی روابط، عوامی سطح پر دوستی اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت اور مثر کردار ادا کرتا رہے گا۔انہوں نے چائنہ ونڈو کی مزید کامیابیوں اور پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کے رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔







