خیبرپختونخوا کے ضلع چترال میں انتظامیہ کی جانب سے تھری ایم پی او (3 MPO) کے تحت بڑی کارروائی کی گئی ہے، جس کے دوران صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے شوہر نور عالم کو بونی اپر چترال سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس سے قبل پشاور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے پولیس کو ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے ان کا گھر سیل کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔دوسری جانب اپر چترال پولیس نے پی ٹی آئی کے مقامی جنرل سیکریٹری علاؤالدین عرفی سمیت پارٹی کے 6 دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کو بونی چوک سے حراست میں لے کر جیل منتقل کر دیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں جنرل سیکریٹری علاؤالدین عرفی، نائب صدر ارشاد احمد، فوکل پرسن افگن رضا، عنایت علی، عبدالمنظر اور عاشق خانزادہ شامل ہیں۔پارٹی ذرائع کے مطابق گورنر راج کے نفاذ اور سیاسی تحرک کے بعد پولیس کی جانب سے ان رہنماؤں کے خلاف دفعہ 188 اور 3 ایم پی او کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ اگرچہ دفعہ 188 کے تحت سیشن جج سے کارکنان کو دو روز کی عبوری ضمانت مل چکی تھی، تاہم انہیں تھری ایم پی او کا سہارا لے کر جیل بھیج دیا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مستوج سے پی ٹی آئی کے سینئر نائب صدر سید حبیب اللہ شاہ کو بھی انہی دفعات کے تحت گرفتار کر کے جیل منتقل کیا جا چکا ہے۔







