وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سیاسی معاملات پر اپنا دوٹوک موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اپوزیشن مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتی، تب تک مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ ناصر عباس سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو اپوزیشن اسی طرح سیاست سے مائنس ہوتی رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام تر سیاسی و قومی درپیش مسائل کا حل صرف اور صرف باہمی گفتگو اور مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں طلال چوہدری نے کہا کہ جج صاحب نے اپنے استعفے میں وجوہات کا تحریری طور پر ذکر کیا ہوگا۔ آئینی ترامیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اٹھارویں یا انیسویں ترمیم کے ذریعے بننے والے ججز زیادہ مقدم سمجھے جا سکتے ہیں، تو پھر چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کے تحت بننے والے ججز کم مقدم کیسے ہو سکتے ہیں؟







