ذاتی ملکیت کی مسماری،ضلعی انتظامیہ سے جواب طلب

پشاور ہائیکورٹ نے شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران ایک شہری کی ذاتی ملکیت پر قائم فارمیسی کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے مسمار کرنے کے خلاف دائر رٹ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے)، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو درخواست گزار کی ملکیت کے خلاف مزید کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔دورانِ سماعت درخواست گزار احمد یار کے وکیل انعام اللہ علیزئی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کی ذاتی زمین پر فارمیسی قائم تھی اور ان کے پاس اراضی کی ملکیت سے متعلق تمام قانونی و شرعی دستاویزات موجود ہیں۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ڈی اے کی جانب سے 1997ء میں بھی درخواست گزار کے حق میں ملکیت کی ڈگری جاری کی جا چکی تھی، اس کے باوجود تجاوزات ختم کرنے کے نام پر انتظامیہ نے بلا جواز فارمیسی مسمار کر دی۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ انکروچمنٹ ایکٹ کے تحت کسی بھی جائیداد کے خلاف اقدام سے قبل باقاعدہ قانونی نوٹس دینا لازمی ہے، تاہم انتظامیہ نے نہ تو کوئی نوٹس جاری کیا اور نہ ہی دیگر قانونی تقاضے پورے کیے۔ وکیل نے اندیشہ ظاہر کیا کہ متعلقہ فریقین درخواست گزار کی اراضی پر مزید قبضے یا توڑ پھوڑ کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد پی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کو مزید پیش رفت سے روکتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed