اسرائیل میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جن کے مطابق سابق وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو برتری حاصل ہو گئی ہے، تاہم وہ فی الحال حکومت بنانے کی مستحکم پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتے-
انتخابات کے بعد سے ووٹوں کی گنتی کا عمل مسلسل جاری ہے اور اب تک تقریباً 27 لاکھ سے زائد ووٹ گنے جا چکے ہیں، جو کہ کل ڈالے گئے ووٹوں کا 57 فیصد بنتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج میں نیتن یاہو کا اتحاد 56 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ اپوزیشن کے آئزن کوٹ اتحاد کو 49 نشستوں پر کامیابی مل رہی ہے۔
اگر سیاسی جماعتوں کی انفرادی کارکردگی کو دیکھا جائے تو نیتن یاہو کی اپنی جماعت 28 نشستوں پر آگے ہے، جبکہ اپوزیشن پارٹی یاشر تنہا 21 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ، عرب جماعتیں مجموعی طور پر 15 نشستوں پر آگے چل رہی ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیلی پارلیمان ‘کنیسٹ’ میں حکومت قائم کرنے کیلئے کسی بھی فریق کو 61 نشستوں کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ فی الوقت نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں ہی گروپس اس مطلوبہ جادوئی ہندسے تک پہنچنے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومت سازی کا معاملہ تاحال پیچیدہ نظر آتا ہے۔







