چین میں ایک نوجوان نے سائنس فکشن تصور کو حقیقت کا روپ دیتے ہوئے ایک ایسا منفرد ہوور بورڈ تیار کیا ہے جو فضا میں کامیابی کے ساتھ اڑ سکتا ہے۔
وسطی چین کے صوبے ہوبئی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ سونگ شینگیو نے یہ ڈیوائس تیار کی ہے۔ اکتوبر کے وسط میں جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں انہیں دریائے یانگتسی اور پہاڑیوں کے اوپر اس ہوور بورڈ کے ذریعے فضا میں پرواز کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سونگ نے محض دو ماہ کے عرصے میں اس ہوور بورڈ کو مکمل کیا، اور ان کی یہ ویڈیو اسی دن منظر عام پر آئی جب ٹیسلا کی جانب سے پہلی اڑنے والی گاڑی ‘روڈسٹر’ متعارف کروائی گئی۔
سونگ شینگیو کی زندگی کی کہانی بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ انہوں نے 14 سال کی عمر میں تعلیم چھوڑ کر اپنے والد کی دکان پر کام شروع کیا تھا اور بعد میں ایوی ایشن کے ناکارہ سامان کا استعمال کرتے ہوئے ایک طیارے کا ماڈل بنایا۔ جون 2022 میں انہوں نے ایک خالی گودام کو اپنی ذاتی لیبارٹری میں تبدیل کیا، تاہم ایک دھوکے دہی کا شکار ہونے کے باعث ان پر 24 لاکھ یوآن کا قرضہ چڑھ گیا۔ بعد ازاں ایک آئی ٹی کمپنی کی جانب سے 18 لاکھ یوآن کی سرمایہ کاری ملنے کے بعد مئی 2024 میں انہوں نے ایک ریموٹ کنٹرول طیارہ تیار کیا، جسے کرہ ہوائی میں بھیجنے کی کوشش خراب موسم کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔
اس کے چھ ماہ بعد، انہوں نے ہیلی کاپٹر سے 5 ہزار میٹر کی بلندی سے ایک خود ساختہ فلائنگ ڈیوائس پہن کر چھلانگ لگائی۔ پرواز کے دوران ان کا بنیادی پیراشوٹ نہ کھل سکا اور محض 600 میٹر کی بلندی پر ہنگامی پیراشوٹ کھلنے سے ان کی جان بچی۔ اس خوفناک حادثے کے باوجود پرواز کا شوق کم نہ ہوا اور انہوں نے اسپائیڈر مین فلم کے ولن ‘گرین گوبلن’ کے گلائیڈر سے متاثر ہو کر ہوور بورڈ کی تیاری پر کام شروع کیا۔
پہلے ورژن کی ناکامی کے بعد انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نیا ہوور بورڈ تیار کیا جو 4 بالغ افراد کا وزن اٹھا کر اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیوائس کی کامیابی سے آزمائش کی گئی اور سونگ نے اسے دریائے یانگتسی، پہاڑوں اور شہری گلیوں کے اوپر اڑاتے ہوئے ایک وادی میں محفوظ لینڈنگ کی۔ اپنی اس کامیابی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے صفر سے شروعات کی تھی اس لیے انہیں ناکامی کا خوف نہیں تھا، اور بہادری سے آگے بڑھنا ہی واحد راستہ تھا۔







