خیبرپختونخوا کے پشاور، خیبر، کرک اور کرم اضلاع کی 54 پسماندہ یونین کونسلوں اور حساس سرحدی علاقوں میں علمائے کرام کے تعاون سے بچوں کی حفاظتی ویکسینیشن پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کی شرح میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ میڈیکل ایمرجنسی ریزیلینس فانڈیشن (میرف)نے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (ای پی آئی)خیبرپختونخوا اور گاوی ویکسین الائنس کے اشتراک سے اس اقدام کے تحت مقامی روایات، ثقافتی حساسیت اور سماجی رویوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام میں آگاہی پیدا کی اور بچوں کو 13 قابلِ تدارک بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے علمائے کرام کو مثر انداز میں شامل کیا۔منصوبے کے تحت تقریبا 170 بااثر علمائے کرام نے طبی ماہرین کے ساتھ خصوصی نشستوں میں شرکت کی، جہاں حفاظتی ٹیکہ جات کی افادیت، تحفظ اور اہمیت سے متعلق سائنسی شواہد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ علمائے کرام نے جمعہ کے خطبات، فتاوی اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے ویکسینیشن سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اسے بچوں، خاندانوں اور معاشرے کے تحفظ کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ میرف کے پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر جنید خان کے مطابق علمائے کرام نے محکمہ صحت کے عملے کی جگہ لینے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر کام کیا اور عوام اور ویکسینیٹرز کے درمیان اعتماد اور مکالمے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔منصوبے کے تحت حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے 96 ویکسینیٹرز اور 85 کمیونٹی آٹ ریچ ورکرز بھی تعینات کیے گئے۔ ای پی آئی کے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے مطابق جولائی 2025 سے اکتوبر 2026 کے دوران ہدفی یونین کونسلوں میں پینٹا تھری ویکسین کی کوریج 60 فیصد سے بڑھ کر 89 فیصد جبکہ خسرہ اور روبیلا کی پہلی خوراک (ایم آر ون) کی کوریج 56 فیصد سے بڑھ کر 83 فیصد ہوگئی۔ اسی عرصے میں آٹ ریچ ورکرز نے ویکسین کی کوئی خوراک نہ لینے والے 9 ہزار 154 بچوں کی نشاندہی کی، جن میں سے 7 ہزار 584 بچوں کو ویکسین لگائی گئی، یوں 84 فیصد بچوں کو معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں شامل کیا گیا۔ مزید برآں، ویکسین کی نامکمل خوراکیں لینے والے 55 ہزار 184 بچوں کو بھی ضروری حفاظتی ٹیکے لگوا کر ان کی ویکسینیشن مکمل کرنے میں مدد دی گئی۔اس اقدام میں مولانا عبدالصمد، مولانا لقمان خان، مفتی آصف خان، مولانا امین الرحمن رحمانی اور مفتی فضل ربانی سمیت متعدد علمائے کرام نے حصہ لیا۔ ڈاکٹر جنید خان نے کہا کہ پسماندہ اور ویکسین کی کوئی خوراک نہ لینے والے بچوں تک رسائی کے لیے مقامی سطح پر اعتماد کا حصول بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق سماجی و رویہ جاتی تبدیلی کے لیے آگاہی مہمات کو صحت کی بنیادی سہولیات کے ساتھ مربوط کرنے سے حفاظتی ٹیکہ جات تک رسائی اور عوامی قبولیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، جبکہ مقامی مذہبی رہنماں اور طبی عملے کے مشترکہ تعاون سے ویکسین سے متعلق ہچکچاہٹ دور کرنے اور بچوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے میں مدد مل رہی ہے







