پشاور ہائیکورٹ نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواست پر عبوری ریلیف دیتے ہوئے متنازعہ آسامیوں پر حتمی تقرری کے احکامات جاری کرنے سے روک دیا تاہم عدالت نے بھرتیوں کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بنچ سماعت کے دوران قرار دیا کہ کیس کے حتمی فیصلے تک زیرِ اعتراض آسامیوں پر تقرری کے حتمی احکامات جاری نہ کیے جائیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو دو ہفتوں کے اندر درخواست پر پیرا وار جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔درخواست گزاروں کے وکیل میاں محمد عمران نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکلین کو ابتدائی طور پر کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی کیا گیا تھا اور ان کے معاہدوں میں وقتاً فوقتاً توسیع بھی کی جاتی رہی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تجربے اور خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزاروں کے کیسز مستقلی کے لیے بھجوائے گئے تھے، جبکہ اس مقصد کے لیے سلیکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔وکیل کے مطابق، اس کے باوجود ان ملازمین کی زیرِ استعمال آسامیوں کو بعدازاں نئی بھرتیوں کے لیے مشتہر کردیا گیا، جس سے ان کی ملازمتوں کی مستقلی کا معاملہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد متعلقہ حکام کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ فی الحال بھرتیوں کا عمل جاری رہ سکتا ہے، تاہم متنازعہ آسامیوں پر حتمی تقرریاں نہیں کی جائیں گی۔
پشاور ہائیکورٹ نے این سی سی آئی اے کی متنازعہ آسامیوں پر حتمی آرڈرز جاری کرنے سے روک دیا







