قومی اسمبلی کے ممبر شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ اقدام کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے قانونی درخواست کل تک تیار کر لیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اقدام کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تمام ضروری ثبوت بھی مکمل کیے جائیں گے۔شیر افضل مروت کے مطابق اگر سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اپنے دائرہ اختیار کو استعمال کیا تو پشاور ہائی کورٹ میں جاری سماعت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، انہوں نے کہا کہ اگر پشاور ہائی کورٹ آج سماعت کرتی ہے تو پارلیمانی کارروائی سے متعلق معاملہ بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے منظور کردہ اقدام کو قانونی فورم پر چیلنج کرنے کے لیے تیاری کی جا رہی ہے، ان کے مطابق درخواست میں متعلقہ شواہد شامل کیے جائیں گے۔ممبر قومی اسمبلی نے پاکستان تحریک انصاف پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور منتخب نمائندے بھی دہشت گردی کے واقعات میں نشانہ بنے ہیں اور پارٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے جانیں گنوائی ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کے وزیر قانون اعجاز شاہ سمیت پارٹی کے دیگر رہنماں اور منتخب نمائندوں کی شہادتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پارٹی کے لوگوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے







