قیمتی معدنیات سے مالا مال پاکستان

ضیاء الحق سرحدی(ستارہ امتیاز )

بلا شبہ اللہ تبارک تعالی نے پاکستان کو وہ سب کچھ دیا ہے جس کی کسی بھی قوم کو خوشحالی اور ترقی کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے پاس پورے ایشیائی براعظم میں بہترین جغرافیہ ہے، ہمارے پاس تمام موسم ہیں، ہمارے پاس ہر قسم کے مناظر ہیں، ہمارے پاس بلند ترین پہاڑ، زرخیز زرعی میدان، دریا، صحرا اور دنیا کے مصروف ترین سمندری تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ وسیع ساحلی پٹیاں ہیں۔ پاکستان کے پاس پیسہ کمانے اور ہماری معیشت کو مضبوط کرنے کے بے پناہ وسائل ہیں۔ نہ صرف ہماری زمین پر بلکہ زمین کے نیچے بھی بہت زیادہ معدنی وسائل ہیں۔ ہماری زمینوں کے نیچے سونا، تانبا، لوہا، جواہرات، سنگ مرمر، تیل، گیس اور دیگر بہت سی معدنیات موجود ہیںجنہیں ہم حتمی شکل د ینے کے بعد اگرصحیح طریقے سے نکال کر مارکیٹ میں لائیں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اس قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے ٹیکنالوجی اور مہارت کی ضرورت ہے جس کی ہمارے پاس بہت سے شعبوں میں کمی ہے۔ پاکستان 6 لاکھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط معدنیات کے بڑے ذخائر سے مالا مال ہے۔ یہاں 92 معروف معدنیات ہیں جن میںسے 52 کا تجارتی استعمال کیا جاتا ہے جن کی کل پیداوار 68.52 ملین میٹرک ٹن سالانہ ہے۔ یہ ایک امید افزا شعبہ ہے جس کی اوسط نمو 23 فیصد سالانہ ہے جس میں 5 ہزار سے اوپر آپریشنل کا نیں موجود ہیں، 50 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور 3لاکھ کارکنان کا براہ راست روزگار وابستہ ہے۔ ملک میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی نمک کی کانیں ہیں۔ تانبے سونے کے پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ کوئلے کے دوسرے بڑے ذخائر کے ساتھ ساتھ اربوں بیرل خام تیل بھی موجود ہے۔ لیکن یہ بہت بد قسمتی کی بات ہے کہ معدنی دولت کے سب سے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود ہماری معیشت میں معدنیات کا حصہ بہت کم ہے ۔پاکستان میں تانبے اور سونے کے بہت بڑے ذخائر ہیں جو بنیادی طور پر ریکوڈک ضلع چاغی بلوچستان میں موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 5.9 بلین ٹن سے زیادہ سونے کے ذخائر ہیں۔ اینٹو فا گاٹا کمپنی ریکوڈک فیلڈ ہیں۔ 1لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن تانبے اور 3 لاکھ اونس سونے کی ابتدائی پیداوار پر کام کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ ایک سال میں 3لاکھ 50 ہزارٹن سے زیادہ تانبا اور 9لاکھ اونس سونا پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان جیمز اینڈ جیولری ڈویلپمنٹ کمپنی 2006 میں پاکستان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذیلی ادارے کے طور پر قائم کی گئی تھی، جو وزارت صنعت و پیداوار، حکومت پاکستان کے تحت کام کرتی ہے۔ کمپنی کا چارٹر پاکستان کی جواہرات اور زیورات کی صنعت کی کان سے مارکیٹ تک ویلیو چین کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ ماہرین سفارش کرتے ہیں کہ معدنی وسائل سے زیادہ سے زیادہ معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کی جائے، مارکیٹنگ کے طریقوں کو اپڈیٹ کیا جانا چاہیے اور وفاقی صوبائی اور مقامی سطحوں پر کام کرنے والے محکموں اور کمپنیوں کے درمیان ہم آہنگی قائم کرنے کیلئے ایک ریگولیٹری فریم ورک ضروری ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان قیمتی اور نیم قیمتی جواہرات کی وسیع اقسام کا گھر ہے۔ زمرد اور یاقوت سے لے کر پکھراج، گارنیٹ اور ایکوامیرین تک یہ صوبہ قیمتی پتھروں کی کان کنی اور تجارتی شعبے میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے لیکن ناکافی انفراسٹرکچر، جدید آلات کی کمی، مارکیٹنگ کی ناقص حکمت عملی اور کم سے کم حکومتی تعاون کی وجہ سے بلوچستان میں قیمتی پتھروں کی صنعت بدستور غیر منظم ہے۔ صوبے میں قیمتی پتھروں کی صنعت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ کان کنی کی جگہوں تک سڑک کی ناقص رسائی ،بجلی کی نا کافی فراہمی ،کان کنی کے جدید آلات کی عدم موجودگی نے ترقی اور سرمایہ کاری کو نمایاں طور پر محدود کر رکھا ہے۔ کان کنی کے بہت سے علاقے دور دراز پہاڑی علاقوں میں واقع ہیں جہاں سے نکالے گئے قیمتی پتھروں کو لے جانا مشکل اور مہنگا بھی ہے۔اگر خیبرپختونخوا کی بات کی جائے تو خیبر پختونخوا کو قدرت نے زیر زمین معدنی دولت سے غیر معمولی طور پر نوازا ہے۔ بلند و بالا پہاڑوں، وادیوں اور چٹانی سلسلوں پر مشتمل اس صوبے میں سنگ مرمر، گرینائٹ، کرومائٹ، چونا پتھر، کوئلہ، نمک، جپسم، صابن پتھر، تانبا اور قیمتی و نیم قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں معدنیات کا شعبہ نہ صرف صوبے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ روزگار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed