خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالجلیل خان کی تقرری پشاور ہائیکورٹ میں دوبارہ چیلنج کر دی گئی، درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تقرری میں پی ایم ڈی سی کے مقررہ قانونی تقاضوں اور عدالت کے سابقہ احکامات کو نظرانداز کیا گیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا۔جسٹس وقار احمد اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر اے ایچ عامر اور ڈاکٹر محمد ایاز خان کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ سنگین خان پیش ہوئے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ پہلے بھی تقرری کے عمل پر نظرثانی اور پروفیسر کی حیثیت سے 10 سالہ تجربے کی شرط کے حوالے سے محکمہ قانون سے رائے لینے کی ہدایت کر چکی ہے، تاہم اس کے باوجود اسی امیدوار کی دوبارہ سفارش کی گئی۔درخواست گزاروں کے مطابق پی ایم ڈی سی کے متعلقہ ضوابط کے تحت وائس چانسلر کے لیے تسلیم شدہ طبی ادارے میں پروفیسر کی حیثیت سے کم از کم 10 سال کا تجربہ ضروری ہے، جبکہ ڈاکٹر عبدالجلیل خان کا مجموعی ملازمتی تجربہ تقریباً سات سال اور بطور پروفیسر تجربہ زیادہ سے زیادہ 18 ماہ ہے۔ وکیل نے کہا کہ صوبائی قواعد وفاقی قانون کی لازمی شرائط کو غیر مؤثر نہیں بنا سکتے۔درخواست میں خیبر پختونخوا یونیورسٹیز ایکٹ 2012ء کی متعلقہ دفعات کو پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022ء سے متصادم ہونے کی حد تک چیلنج کرتے ہوئے 4 اکتوبر 2026ء کا تقرری نوٹیفکیشن اور صوبائی کابینہ کا متعلقہ فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں نے حتمی فیصلے تک تقرری کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔عدالت نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed