پشاور ہائیکورٹ نے نوشہرہ کے علاقے رشکئی سے ۲۳ ستمبر کو مبینہ طور پر لاپتا ہونے والے ۹ افراد کی بازیابی کے لیے دائر آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ رسالپور کو ۱۲ اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں رپورٹ سمیت عدالت عالیہ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔کیس کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی سربراہی میں ہوئی۔ دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل اور سپریم کورٹ کے ممتاز قانون دان محمد انعام یوسفزئی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ ۲۳ ستمبر کو رشکئی کے مختلف علاقوں سے ۹ شہریوں کو مبینہ طور پر تحویل میں لے کر لاپتا کر دیا گیا، جن میں فیاض قطر، ہجرت کامران، زاہد زمان، جلال خان اور عبدالرحمن آفریدی شامل ہیں۔ فاضل کونسل نے بتایا کہ تاحال متاثرہ خاندانوں کو ان کے پیاروں کے بارے میں کوئی قانونی یا انتظامیہ کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کے دوران عدالت میں موجود لا افسر کو ہدایت کی کہ وہ ڈی پی او نوشہرہ سے ذاتی طور پر رابطہ کر کے معاملے کی تفتیش اور اب تک کی پیش رفت سے متعلق فوری معلومات حاصل کریں۔ عدالت نے متعلقہ پولیس حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ۱۲ اکتوبر تک ملتوی کر دی۔







