کراچی میں جعلی کمپنیوں سے 3 ارب 26 کروڑ کے راؤٹرز درآمد

کراچی: کسٹمز اے ایف یو کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ میں مبینہ جعلی اور پیپر کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے مالیت کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مسلم سنز انٹرپرائز اور موسانی سنڈیکیٹ کے نام سے مجموعی طور پر 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے گئے۔ ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت ان راؤٹرز کی مجموعی مالیت 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ راؤٹرز پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر درآمد کیے گئے۔

کسٹمز رپورٹ میں دونوں کمپنیوں کو مبینہ طور پر فرنٹ مین کے نام پر رجسٹر کرکے خفیہ آپریٹرز کے لیے ’’مارکیٹ آئی ڈیز‘‘ کے طور پر استعمال کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کمپنیوں کے رجسٹرڈ کاروباری پتے بھی مشکوک پائے گئے، جہاں ایک مقام پر آٹا اور چاول کی دکان جبکہ دوسرے پتے پر کرائے کا رہائشی مکان موجود تھا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں کے وی بوک اکاؤنٹس ہزاروں مختلف آئی پی ایڈریسز سے استعمال کیے گئے۔ مسلم سنز انٹرپرائز کے اکاؤنٹ سے 2 ہزار 983 جبکہ موسانی سنڈیکیٹ کے اکاؤنٹ سے 2 ہزار 732 منفرد آئی پی ایڈریسز منسلک پائے گئے۔ دونوں کمپنیوں کے 1 ہزار 48 آئی پی ایڈریسز مشترک تھے، جس سے مشترکہ کنٹرول کا شبہ ظاہر کیا گیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں نے 2 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی درآمدات کیں، جبکہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز سمیت مجموعی لاگت 3 ارب 20 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی۔ اس کے برعکس کمپنی مالکان کا ابتدائی مشترکہ سرمایہ صرف 22 لاکھ روپے تھا، جبکہ ظاہر کردہ 7 کروڑ 77 لاکھ روپے کا مجموعی سرمایہ بھی ایک ماہ کی درآمدی سرگرمی کے لیے ناکافی قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کی مالی حیثیت اور اربوں روپے کی درآمدات کے درمیان نمایاں فرق خفیہ بینیفیشل اونرز کی جانب سے فنڈنگ کے امکان کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں کمپنیوں کے 108 مقامی خریدار اور 12 غیر ملکی سپلائرز بھی مشترک پائے گئے۔

کسٹمز رپورٹ کے مطابق اے کے سنز ٹریڈنگ کمپنی نے دونوں کمپنیوں کی مجموعی درآمدات کا 61 فیصد سامان فراہم کیا۔ دونوں کمپنیوں کے سیلز ٹیکس ریٹرنز بھی متعدد مواقع پر چند منٹ کے وقفے سے فائل کیے گئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ تقریباً 2 ارب 90 کروڑ روپے کی مقامی فروخت کے باوجود نقد رقم میں تقریباً کوئی سیلز ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔ بلیک لسٹ، معطل اور غیر فعال خریداروں کو سامان فروخت کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا، جس پر جعلی یا فلائنگ انوائسز کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق درآمدات میں بڑے پیمانے پر انڈرانوائسنگ بھی سامنے آئی۔ اسیسمنٹ کے دوران درآمدی قیمت میں تقریباً 1 ارب 30 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق راؤٹرز کی درآمدی قیمت 9 کروڑ 70 لاکھ روپے ظاہر کی گئی تھی، جو اسیسمنٹ کے بعد 56 کروڑ 50 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔

کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر راؤٹرز کی درآمد تک محدود نہیں، بلکہ مبینہ مالی فراڈ اور ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ درآمدی رقوم فرنٹ کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق بینکوں سے فنڈز کے ذرائع اور ادائیگیوں کی مکمل تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ غیر قانونی کلیئرنس سے انکار اور بینیفیشل اونرشپ کی تحقیقات پر افسران کو دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنے کا دعویٰ بھی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

کسٹمز تحقیقاتی رپورٹ میں کسٹمز، ان لینڈ ریونیو اور ایف آئی اے پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کمپنیوں کے وی بوک یوزر آئی ڈیز معطل یا منسوخ کرنے اور ٹیکس سے متعلق معاملات آر ٹی او ٹو کراچی کو بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 71 ہزار سے زائد راؤٹرز کی مشکوک درآمد سے شروع ہونے والی تحقیقات مبینہ جعلی کمپنیوں، خفیہ آپریٹرز اور اربوں روپے کے مالی لین دین تک پہنچ گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed