پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور پشاور کے سینئر صحافیوں ارشد عزیز ملک ‘ محمود جان بابر ‘ شاہد حمید’ لحاظ الدین ‘ عرفان موسیٰ زئی ‘ عمران یوسفزئی ‘ عرفان خان’ شہاب الدین ‘ ضیاء الحق ‘ ظفر خان ‘محمد عاصم’ عابد حمید ‘ عمیر یاسر’ یاسر احمد’ طیب عثمان ‘ ناصر حسین ‘ آصف نثار غیاثی ‘ ظاہر شاہ شیرازی ‘ ناصر داوڑ ‘ رضوان شیخ و دیگر نے روزنامہ کسوٹی پشاور اور کسوٹی ڈیجیٹل پر خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات کی بندش کے معاملے پر اظہارِ یکجہتی کیلئے کسوٹی کے دفاتر کا دورہ کیا اور ادارے کی انتظامیہ و کارکنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر صحافتی تنظیموں کے عہدیداران اور سینئر صحافیوں نے کسوٹی انتظامیہ اور کسوٹی ڈیجیٹل کے سٹاف سے ملاقات کی اور سرکاری اشتہارات کی بندش کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی۔

سینئر صحافیوں نے کہا کہ کسی بھی میڈیا ادارے کے اشتہارات بند کرنا نہ صرف صحافتی ادارے کے معاشی مسائل میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے صحافیوں اور دیگر ملازمین کے روزگار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید نے روزنامہ کسوٹی پشاور اور کسوٹی ڈیجیٹل کے اشتہارات کی بندش کو نامناسب اقدام قرار دیتے ہوئے اسے صحافتی ادارے کے ساتھ زیادتی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافت جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہے اور میڈیا اداروں کو دبائو میں لانے یا معاشی مشکلات سے دوچار کرنے کے اقدامات صحافتی آزادی کیلئے بھی نقصان دہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسوٹی کے اشتہارات کی بندش کے معاملے پر پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس خاموش نہیں ہیں بلکہ اس سلسلے میں حکومتی وزرائ، سیکرٹری اطلاعات، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات اور دیگر متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اس معاملے پر حکام کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ جلد ہی کسوٹی کے معاملے کو حل کر لیا جائے گا اور اشتہارات کی بحالی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔صحافتی تنظیموں کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ میڈیا اداروں کے ساتھ معاملات کو باہمی مشاورت اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت صحافتی اداروں کے مسائل کا مثبت انداز میں جائزہ لے گی اور روزنامہ کسوٹی پشاور اور کسوٹی ڈیجیٹل کے سرکاری اشتہارات کی بندش ختم کرکے انہیں معمول کے مطابق اشتہارات کی فراہمی یقینی بنائے گی۔اس موقع پر کسوٹی انتظامیہ اور کسوٹی ڈیجیٹل کے سٹاف نے پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین سید اور پشاور کے سینئر صحافیوں کا دفتر آ کر اظہارِ یکجہتی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ کسوٹی ڈیجیٹل کے سٹاف نے کہا کہ مشکل وقت میں صحافتی برادری کی جانب سے اظہارِ یکجہتی نہ صرف حوصلہ افزا ء ہے بلکہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ صحافتی اداروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے پوری صحافتی برادری ایک دوسرے کیساتھ کھڑی ہے۔

کسوٹی انتظامیہ نے کہا کہ روزنامہ کسوٹی پشاور اور کسوٹی ڈیجیٹل نے ہمیشہ صحافتی اصولوں، آزادی اظہار اور عوام تک بروقت اور ذمہ دارانہ اطلاعات کی فراہمی کو مقدم رکھا ہے۔ ادارہ آئندہ بھی اپنے صحافتی فرائض پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتا رہے گا اور صحافتی برادری کے تعاون اور یکجہتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔صحافتی حلقوں نے اس موقع پر اس امر پر زور دیا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان اختلافات یا شکایات کو اشتہارات کی بندش کے بجائے مذاکرات اور ادارہ جاتی رابطے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ صحافتی اداروں کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کے معاشی مفادات بھی متاثر نہ ہوں۔







