گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبہ بچانے کے لیے اگر ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اور اگر ایمرجنسی لگتی ہے تو پی ٹی آئی کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ جب صوبے کی صورتحال ایسی ہو جاتی ہے تو صدر، وزیراعظم اور دیگر ادارے سمجھیں تو ایمرجنسی لگنے کی گنجائش ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ صوبہ بچانے کے لیے اگر ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، اگر ایمرجنسی وغیرہ لگ جاتی ہے تو میں اکیلا ہی ان کے لیے کافی ہوں، ابھی یہ چھپ رہے ہیں، گرفتاریاں دے رہے ہیں، میں ان کی طرح بھڑکیں نہیں مارتا، جب میدان لگے گا پھرمیں ان کو دیکھ لوں گا۔فیصل کریم کنڈی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ ہو رہا ہے؟ کیا پشاور میں کچھ ہو رہا ہے،کوئی کارنر میٹنگ ہوئی،کوئی بینر دیکھا، لانگ مارچ میں ہم نے صرف خود ساختہ گرفتاریاں اور روپوشیاں دیکھیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہاکہ یہ صوابی کراس کرکے تو دکھائیں، ان کے پاس کوئی پلاننگ نہیں ہے، یہ چاہتے ہیں مہینہ ایک مہینہ لگ جائے لیکن صوابی نہ آئے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے اگر پی ٹی آئی نے دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہیں دیا تو پھر شاید خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی طرف جانا پڑے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہر دوسرے دن دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اور پی ٹی آئی کا دھیان سیاست پر ہے، نہیں چاہتے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑے۔بلاول نے کہا کہ پی ٹی آئی کا احتجاج بڑی حد تک کامیاب ہوچکا ہے، اسلام آباد دس دن سے بند پڑا ہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ اب پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے معاملے کا سیاسی حل نکالے، سیاسی بحران کو قومی مفاد سے الگ رکھے۔







