سرکاری مراعات واپس لینے کیساتھ ساتھ قائمقام سیکرٹری کے پی اسمبلی کی غیرضروری مداخلت کیخلاف دائر رٹ پٹیشن پر ان کی ملازمت سے معطلی کا اقدام معطل کردیا اور فریقین کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل بنچ نے خالد الرحمان ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت کی جس میں سیکرٹری صوبائی اسمبلی قائم مقام سیکرٹری اسمبلی وقار شاہ و دیگر کو فریق بنایاگیا ہے۔ دوران سماعت خالد رحمان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ درخواست گزار ایڈیشنل ڈائریکٹر پی آر اینڈ ایم محمد عابد ابرار و دیگر کے پی سیکرٹریٹ ایمپلائز کواپریٹیو ہاوسنگ سوسائیٹی کے صدر اور کابینہ ممبران ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے ملازمین کو بہتر رہائشی سہولیات دینے کیلئے کیپی کواپریٹیو سوسائٹیز ایکٹ 1925کیتحت اس سوسائیٹی کو رجسٹرڈ کیاگیا اور بعد میں ورسک روڈ پر جگہ کا تعین کرکے 2024میں ہاوسنگ سوسائیٹی کیقیام کیلئے صوبائی اسمبلی میں ایک معاہدہ ہوا۔ جس کے بعد زمین کیلئے ڈاون پیمنٹ و دیگر امور کو حتمی شکل دی گئی۔ رٹ کے مطابق سپیکر اور سیکرٹری صوبائی اسمبلی بھی سوسائیٹی کے ممںبران بن گئے تھیجبکہ سوسائیٹی قیام کیلئے کابینہ تشکیل دی گئی جس کے صدر درخواست گزار محمد عابد ابرار بنے جبکہ دیگر ممبران کا بھی انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے بتایاکہ سوسائیٹی کیقیام اور اس کے ملکیتی و دیگر مسائل کے حل کیلئے کابینہ نے دن رات محنت کی تاہم اس دوران فریق ایکٹنگ سیکرٹری کیپی اسمبلی نے کابینہ ممبران کیخلاف پروپیگنڈا شروع کیا اور ان پر مہنگی زمین خریدنیمبینہ خردبرد و انتظامی بیقاعدگیوں جیسے سنگین الزامات عائد کیے کہ وہ یہ زمین سستی قیمت پر خرید سکتے تھے۔ مذکورہ سیکرٹری ڈی ایچ اے کے پراپرٹی ڈیلروں سے زمین خریدنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نیبتایاکہ سوسائیٹی کیلئے 380ملین کی خطیر رقم جمع کی گئی ہے اور اب وہ معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے تاہم موجودہ سیکرٹری نے بیجااعتراضات کرتے ہوئے اپنی انتظامی اختیار کا مبینہ غلط استعمال کرتے ہوئے ممبران پر دباو ڈال رہے ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق سوسائیٹی کیحوالے سے افسران اور مالکان کے کئی اجلاس بھی ہوئیاور ان پر لگائے گئے الزامات و معاملات کی چھان بین کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تاہم 24 اگست 2026 کو سیکرٹری نے نوٹیفیکیشن جاری کرکے ہاوسنگ سوسائیٹی کے ممبران کیخلاف کارروائی شروع کی گئی اور انہوں نے استعفی دیا تا ہم استعفی منظور کرنے کی بجائے سوسائٹی تحلیل کر دی گئی اور انہیں ملازمت سے معطل کرکے ای اینڈ ڈی رولز کے تحت کاروائی شروع کی جو آئین کے ارٹیکل 4 اور 10Aکیخلاف ہے۔ خالد الرحمان ایڈوکیٹ نے بتایاکہ کابینہ ممبران نے اس سوسائیٹی کیلئے کافی عرصہ سے جدوجہد کی ہے اب اس مرحلے میں انہیں ہٹانے اور ملازمت سے معطل کرنے سے سوسائیٹی وملازمین کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کی جانب سے جاری ایسے تمام نوٹیفیکیشنز اور حکم نامے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے دو طرفہ دلائل سننے کے بعد کابینہ ممبران کے خلاف کارروائی اور ان سے سرکاری مراعات واپس لینے کا اقدام معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیا ۔







