پشاورہائیکورٹ میں کوئلہ کی کان میں کام کرنیوالے مزدوروں کی حفاظت کیلئے اقدامات کے حوالے سے رٹ پٹیشن دائر کردی گئی جبکہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ۔کیس کی سماعت جسٹس سید ارشد علی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔درخواست گزارکے وکیل عمر حسین نے عدالت کوبتایا کہ کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے زیادہ ترمزدوروں کا تعلق شانگلہ سے ہے مگر ان مزدوروں کے لئے کوئی حفاظتی اقدامات موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے مختلف حادثات میں ان کی اموات ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے قانون سازی کی ہے لیکن اس پر بھی عمل نہیں ہورہا اور غیرقانونی کان کنی اب بھی جاری ہے، ہر سال 100 سے 150 مزدوروں کی حادثات کیوجہ سے جانیں چلی جاتی ہے جبکہ 18سال سے کم جوان بھی کول مائنز میں کام کرتے ہیں۔ یہ ایک المیہ ہے، کیونکہ شانگلہ میں لوگوں کے پاس کوئی اور روزگار نہیں ہے، اس لئے وہ مجبوری میں کول مائنز میں کام کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کول مائنز میں کام کرنیوالیہزاروں مزدور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے ان کیلئے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں ہیاور جب ایک حادثے میں یہ مزدور جاں بحق ہوجاتے ہیں توحکومت کی جانب سے انہیں کوئی پیکج نہیں دیا جاتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مزدوروں کی حفاظت کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ کچھ روز قبل ریسکیو کے مطابق حسن خیل کوئلیکی کان میں حادثہ کے باعث تین مزدور جاں بحق ہوگئے تھے۔







