سستے پلانٹس کے باوجود مہنگی بجلی کیوں پیدا کی جاتی ہے؟

پاکستان کے بجلی کے نظام میں کم لاگت پر بجلی کی فراہمی کے اصول کے تحت پہلے سستے پاور پلانٹس چلائے جاتے ہیں، تاہم بعض حالات میں مہنگے پلانٹس کو بھی آپریشن میں لانا پڑتا ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی پیداوار میں ترجیح کم لاگت والے پاور پلانٹس کو دی جاتی ہے تاکہ صارفین کو مہنگی بجلی سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ تاہم جب پن بجلی کی دستیابی کم ہو، رات کے وقت سولر بجلی میسر نہ ہو، بجلی کی طلب اچانک بڑھ جائے یا کوئی دوسرا پلانٹ بند ہوجائے تو مہنگے پاور پلانٹس چلانا ضروری ہوجاتا ہے۔

حکام کے مطابق کم استعمال ہونے والے مہنگے پاور پلانٹس بجلی کے نظام میں بیک اپ کا کردار ادا کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔

پاور ڈویژن کے ٹیکنیکل ایڈوائزر سید فیضان علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سولر بجلی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث گرڈ کا استحکام مزید اہم ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق سردیوں میں پن بجلی کی دستیابی کم ہوجاتی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے بعد بعض پلانٹس کو مطلوبہ مقدار میں گیس بھی نہیں مل رہی۔

پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2025-26 میں فرنس آئل سے دستیاب بجلی کی 5 فیصد کیپیسٹی میں سے صرف ایک فیصد استعمال کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26 میں 1863 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کو مکمل طور پر کم چلنے والے پاور پلانٹس سے منسلک کرنا درست نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کی مجموعی کیپیسٹی پیمنٹس میں 944 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی، 471 ارب روپے آپریشنز اینڈ مینٹیننس جبکہ 449 ارب روپے سرمایہ کاری پر منافع کی مد میں شامل تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed