خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ حکومت کی نیت دہشتگردی ختم کرنے کی نہیں بلکہ صرف پی ٹی آئی کو کچلنا ہے،صرف بندوق اور ڈنڈے کی پالیسی نہیں چلے گی۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوء انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی سیاسی مسائل کے حل کے لیے بنائی گئی تھی اور اسے پورا مینڈیٹ حاصل تھا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرتی، صوبائی حکومت اور پارٹی اس کا پورا احترام کرتی لیکن خیبرپختونخوا حکومت کا مینڈیٹ وزیراعلی کے ساتھ ہے اور کے پی حکومت کی پالیسی عمران خان کے نظریئے سے ذرا برابر بھی ہٹ نہیں سکتی۔شفیع جان نے وفاقی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے معصوم پختونوں کا خون اتنا سستا نہیں کہ آپ کی غلط پالیسیوں کے تحت ہم مزید 80 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے دیں، خیبر پختونخوا پر دہشت گردی کو زبردستی مسلط کیا گیا ہے اور جو لوگ خود آگ لگانے والے ہوں وہ کبھی آگ بجھانے کا کام نہیں کر سکتے، اب پالیسی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بندوق اور ڈنڈے کی پالیسی اب مزید نہیں چلے گی، پچھلے 22 سال سے نافذ ایک ہی پالیسی نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے عوام سے ان کا سکون، جان و مال اور روزگار چھین لیا ہے، اور اب مزید ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا، اسلئے اب بند کمروں میں بیٹھ کر چند عقلِ کل ہمارے مستقبل کے فیصلے نہیں کر سکتے۔







