وفاقی حکومت نے ملک میں اسٹیل سیکٹر سے سیلز ٹیکس کی مکمل وصولی کو یقینی بنانے کے لیے بجلی پر سیلز ٹیکس کی شرائط مزید سخت کر دی ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت 31 جولائی 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ترامیم کرتے ہوئے فاٹا، پاٹا اور ری رولنگ ملز کے لیے رعایتوں کو مخصوص شرائط سے مشروط کر دیا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق اسٹیل ری رولرز، خواہ وہ مقامي خام مال استعمال کریں یا درآمدی، بجلی کے فی یونٹ استعمال پر 30 روپے سیلز ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں مقامی اسکریپ استعمال کرنے والے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس پر 20 روپے فی یونٹ ٹیکس لاگو ہوگا، جبکہ اسٹیل بارز بنانے والے ری رولرز کے لیے بھی یہ شرح 20 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔
تاہم، فاٹا اور پاٹا کے ان ملز مالکان کے لیے رعایت برقرار رکھی گئی ہے جن کا درآمدی خام مال یا رجسٹرڈ افراد سے خریدا گیا اسٹیل اسکریپ کا استعمال 70 فیصد سے زائد ہوگا۔ ایسے یونٹس کو بجلی کے فی یونٹ پر 5 روپے کی رعایت دی جائے گی، جس کی اہلیت کا تعین سہ ماہی خریداری یا درآمدی ریکارڈ کی بنیاد پر ہوگا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر وصول کیا جانے والا سیلز ٹیکس ایڈوانس شمار ہوگا جسے بعد میں آؤٹ پٹ ٹیکس میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔ مزید برآں، پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے تصدیق نہ کرنے تک ہر ادارے کو ری رولر ہی تصور کیا جائے گا، جبکہ بجلی کا کنکشن لیز یا ملکیت کی تبدیلی کے باوجود اپنی اصل حیثیت میں برقرار رہے گا۔







