صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں سیف سٹی کیمروں اور سرویلنس انفراسٹرکچر کے تحفظ اور نقصان کی تلافی سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی۔
ایوانِ صدر کے مطابق آرڈیننس کی منظوری وزیراعظم کی ایڈوائس پر دی گئی ہے۔ نئے قانون کے تحت سیف سٹی کیمروں یا دیگر سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے، اس پر اکسانے یا نقصان کی ترغیب دینے کی صورت میں مالی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
آرڈیننس کے تحت کسی ایک کیمرے یا سرویلنس انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے پر 20 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
قانون میں جلسے، جلوس، دھرنے، احتجاج، ہڑتال یا کسی بھی اجتماع کے دوران سیف سٹی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری منتظمین پر عائد کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ایسی صورت میں اجتماع کے منتظمین کو نقصان کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔
سیف سٹی کیمروں اور دیگر سرویلنس نظام کے تحفظ سے متعلق یہ قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد میں احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات پر توجہ دی جا رہی ہے۔







