اسحاق ڈار کا افغان دہشت گردی پر علاقائی امن کیلئے انتباہ

نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی خطے میں امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی سائیڈ لائنز پر اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کی صدارت پاکستان نے کی، جس کے بعد اسلام آباد نے تنظیم کے لیے اپنی ترجیحات بھی پیش کیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے جو خطے میں مکمل طور پر ضم ہو اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن سے رہے۔ ان کے مطابق یہ مقصد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امن، ترقی اور علاقائی انضمام کی ترجیحات سے مطابقت رکھتا ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے طالبان حکومت کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی اختیار کی اور افغانستان کو دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ تجارت میں سہولتیں فراہم کیں۔ پاکستان نے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی کے فریم ورک معاہدے پر بھی ترجیحی بنیادوں پر دستخط کیے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیادی توقع یہ تھی کہ طالبان حکومت ملک کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور ان سے منسلک گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کیے جائیں گے، جنہیں انہوں نے پاکستان کی خودمختاری اور شہریوں کے لیے مسلسل خطرہ قرار دیا۔

ای سی او کی صدارت اور علاقائی تعاون

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان 2026-27 کے لیے ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کی صدارت سنبھالنے پر رکن ممالک کا شکر گزار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی صدارت کا موضوع ’’لچکدار ای سی او کے لیے علاقائیت کی بحالی‘‘ ہے اور پاکستان تنظیم کے طویل مدتی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرے گا۔

نائب وزیراعظم نے خطے اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کرتا ہے۔

ان کے مطابق ای سی او رکن ممالک کو اپنی اجتماعی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے تقریباً 50 کروڑ افراد کے لیے امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا چاہیے۔

تجارت اور علاقائی رابطہ کاری

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ای سی او کی صدارت کے دوران تجارت اور معاشی انضمام، علاقائی رابطہ کاری، تجارتی سہولت کاری اور موسمیاتی لچک کو ترجیح دے گا۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 80 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور تقریباً 50 کروڑ آبادی کے باوجود ای سی او خطے کا عالمی تجارت میں حصہ تقریباً 2.2 فیصد ہے، جبکہ خطے کے اندر تجارت مجموعی علاقائی تجارت کا تقریباً آٹھ فیصد ہے۔

نائب وزیراعظم کے مطابق یہ اعداد و شمار علاقائی معاشی انضمام کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔

انہوں نے وسطی ایشیا کو بحیرہ عرب کی بندرگاہوں سے ملانے والے ٹرانزٹ راستے فعال بنانے، کسٹمز کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک بہتر بنانے پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور ویزا نظام میں سہولتوں کے ذریعے خطے کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

پاکستان نے ای سی او تجارتی معاہدے کی بنیاد پر فعال اور ڈیجیٹل سہولتوں سے آراستہ آزاد تجارتی خطے کے قیام کی جانب پیش رفت پر بھی زور دیا۔

موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج

نائب وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے میں پانی اور خوراک کے تحفظ، زراعت اور روزگار کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔

انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے، پائیدار توانائی اور ماحولیاتی موافقت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے ای سی او سیکریٹریٹ اور اس سے وابستہ اداروں کے ڈھانچے اور دائرہ کار کا جائزہ لینے کی تجویز بھی دی تاکہ وہ بدلتے ہوئے جغرافیائی اور معاشی حالات کے مطابق مؤثر انداز میں کام کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ای سی او کو محض مذاکرات تک محدود رہنے کے بجائے عملی نتائج کی جانب بڑھنا ہوگا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ نومبر میں اسلام آباد میں ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کا 30واں اجلاس ہوگا، جبکہ تنظیم کے لیے 2026 سے 2035 تک معاشی تعاون کے تزویراتی اہداف پر بھی پیش رفت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ای سی او کو علاقائی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ خطے کی صلاحیت کو بہتر رابطہ کاری، گہرے معاشی انضمام اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed