جاپان میں کامک نے کبڈی کے خواب جگا دیے

جاپان میں ایک مقبول مانگا کامک نے کبڈی جیسے جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے کھیل میں دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے بعد جاپانی شوقیہ کھلاڑی ایشین گیمز میں تمغے کے حصول کے لیے میدان میں موجود ہیں۔

ناگویا کے مضافات میں قائم ایک جمنازیم میں جاپان کی مردوں کی کبڈی ٹیم نے جنوبی کوریا کے خلاف میچ کھیلا، جسے دیکھنے کے لیے چند سو اسکول کے بچے بھی موجود تھے۔

جاپانی ٹیم نے جمعرات کو جنوبی کوریا کو 62 کے مقابلے میں 35 پوائنٹس سے شکست دی، جس کے بعد ایشین گیمز میں اس کی تمغے کی امیدیں برقرار ہیں۔

جاپانی ٹیم کے کپتان ٹیٹسو رو ایبے نے بتایا کہ جاپان میں ’برننگ کبڈی‘ نامی مانگا کامک موجود ہے اور ٹیم کے 80 فیصد سے زیادہ کھلاڑی اسی کے ذریعے کبڈی کی جانب راغب ہوئے۔

کبڈی رفتار، طاقت اور پھرتی کا کھیل ہے، جس میں سات کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیمیں ایک مخصوص میدان میں مقابلہ کرتی ہیں۔ اس کھیل میں گیند استعمال نہیں ہوتی بلکہ اس میں ٹیگ، کشتی اور رگبی کے عناصر شامل ہیں۔

کھیل کے دوران ایک کھلاڑی مخالف ٹیم کے حصے میں جاکر کھلاڑیوں کو چھوتا اور واپس اپنے علاقے میں پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ مسلسل ’کبڈی، کبڈی‘ کا ورد کرتے ہوئے سانس پر قابو رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

جاپان نے 2010 میں گوانگ ژو ایشین گیمز میں مردوں کی کبڈی میں کانسی کا تمغہ جیت کر نمایاں پیش رفت کی تھی۔ موجودہ ایشین گیمز میں جاپانی ٹیم کے لیے اپنے ملک میں اچھی کارکردگی دکھانا اہم ہے تاکہ کھیل کو مزید توجہ اور ممکنہ طور پر اسپانسرز حاصل ہوسکیں۔

کپتان ٹیٹسو رو ایبے کے مطابق ٹیم کے کھلاڑی اپنی عام ملازمتیں کرتے ہیں اور کبڈی کھیلنے کے عوض انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ انہوں نے بتایا کہ شرکت کے لیے انہیں اپنی کمپنی سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔

جاپان کو ایشین گیمز میں بھارت کے ہاتھوں 49 کے مقابلے میں 24 پوائنٹس سے شکست بھی ہوئی، تاہم جاپانی ٹیم نے 2025 میں ہونے والی پہلی ایسٹ ایشین مینز چیمپئن شپ جیتی تھی۔

جاپان میں کبڈی فیڈریشن 1981 میں قائم ہوئی تھی جبکہ قومی اور علاقائی سطح پر مقابلوں کا انعقاد 1989 سے ہر سال کیا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں شہزادہ ہساہیتو نے بھی کبڈی کا میچ دیکھ کر اس کھیل میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

ایشین گیمز کے دوران قریبی اسکولوں کے بچوں کو مفت ٹکٹ دیے گئے، جنہوں نے پہلی مرتبہ کبڈی کا مقابلہ دیکھا۔ ایک استاد کے مطابق بچوں نے میچ سے قبل یوٹیوب کے ذریعے کبڈی کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں۔

جاپانی کبڈی ٹیم کے کپتان کا کہنا ہے کہ اس کھیل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اسے کھیلنے کے لیے کسی خاص سامان کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق جاپان میں کبڈی ابھی محدود پیمانے پر کھیلی جاتی ہے، تاہم ٹیم اسے زیادہ معروف بنانے اور اسپانسرز کو متوجہ کرنے کی خواہاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed