امریکی ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے کاروباری معاملات، غیر ملکی روابط اور ملنے والے تحائف سے متعلق کانگریس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان کرٹس نے سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کی قیادت کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ صدارتی خاندانوں کے کاروباری روابط اور ان سے حاصل ہونے والے ممکنہ مالی فوائد کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو بھی طلب کرنے کی سفارش کی۔
کرٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے غیر ملکی کاروباری شخصیات سے تعلقات اور اہم تحائف سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس غیر ملکی اثر و رسوخ اور صدارتی خاندان سے متعلق ممکنہ مالی فوائد کے سوالات اٹھاتی ہیں۔ ان کے خط میں ٹرمپ جونیئر کے کاروباری منصوبوں اور غیر ملکی روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سینیٹر نے ہنٹر بائیڈن کے سابقہ غیر ملکی کاروباری روابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو صدارتی خاندانوں کے حوالے سے نگرانی کے لیے یکساں معیار اختیار کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہنٹر بائیڈن نے ممکنہ تحقیقات کا سامنا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ساتھ ساتھ ایرک ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کو بھی گواہی کے لیے طلب کرنے کی بات کی ہے۔
یہ معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی بہاماس میں شادی کے بعد ہونے والی تقریبات کے لیے ایک روسی کاروباری شخصیت کی جانب سے مالی معاونت کی رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے۔ سینیٹر کرٹس نے اسی معاملے سمیت ٹرمپ جونیئر کے دیگر کاروباری روابط کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹ کی عدالتی کمیٹی نے کرٹس کا خط موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دستیاب رپورٹس کے مطابق کمیٹی نے تاحال تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن ڈک ڈربن نے کرٹس کی تحقیقات کی درخواست کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔







