پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم خان اور ان کے اہل خانہ کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ فضل حکیم خان، ان کی اہلیہ اور بیٹے سلمان کا نام محض سیاسی بنیادوں پر ان فہرستوں میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فضل حکیم خان کو ابھی تک کسی بھی عدالت سے سزا نہیں ہوئی، جبکہ کسی بھی شہری کا نام ان فہرستوں میں شامل کرنے کا قانونی اختیار صرف وفاقی حکومت کو حاصل ہے، ایف آئی اے کو نہیں اور نہ ہی والد کی وجہ سے بیٹے کا نام شامل کیا جا سکتا ہے۔دوسری جانب اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سلمان کے کیس سے متعلق جامع رپورٹ جمع کرانے کے لیے کچھ مزید وقت درکار ہے۔ عدالت نے حکام کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے اضافی مہلت دیتے ہوئے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر ایم پی اے فضل حکیم خان کی حد تک دائر درخواست کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔







