پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی آصف خان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کے اقدام کے خلاف دائر آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور فریقین سے کلاسیفائیڈ رپورٹ طلب کر لی ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل آصف خان کا نام غیر قانونی طور پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔ وکیل نے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ کے معلوم فیصلے کی نظیر پیش کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شہری کو پیشگی نوٹس دیے بغیر اس کا نام ای سی ایل میں ڈالنا آئین اور قانون کے اصولوں کے یکسر منافی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس ارشد علی کے استفسار پر درخواست گزار کے وکیل نے آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کے مطابق ۹ مئی کے واقعات سے متعلق درج مقدمات کی بنیاد پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ اصل وجوہات سامنے لانے کے لیے متعلقہ اداروں سے کلاسیفائیڈ رپورٹ طلب کی جائے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فریقین کو کلاسیفائیڈ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔







