انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سمیت بھارت کے داخلی کرکٹ ڈھانچے میں میچ فکسنگ اور بدعنوانی کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق سابق فرسٹ کلاس کھلاڑی رچت بھاٹیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آئی پی ایل 2025 کے پانچ مقابلے فکس کیے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ چنئی سپر کنگز کی اہم معلومات بکیز کو فراہم کرنے کے عوض انہیں تین کروڑ بھارتی روپے وصول ہوئے تھے۔
رچت بھاٹیا کے مطابق کرپشن کا یہ سلسلہ صرف آئی پی ایل تک محدود نہیں بلکہ سید مشتاق علی ٹرافی، رانجی ٹرافی اور دہلی پریمیئر لیگ میں بھی بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سید مشتاق علی ٹرافی میں دو وائڈ بالز کرانے کے بدلے انہوں نے 16 لاکھ روپے حاصل کیے، جبکہ رانجی ٹرافی کے لیے ٹیم میں انتخاب کو یقینی بنانے کی خاطر 15 لاکھ روپے بطور رشوت دیے تھے۔ ان سنگین الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے دہلی ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) نے لیگ میں ممکنہ بدعنوانی کی شفاف تحقیقات کی خاطر متعلقہ حکام کو خط ارسال کر دیا ہے۔







