ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا ذمے دار ایران کو قرار دینے والے امریکی حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی بنیادی وجہ خود امریکا ہے۔
ایرانی ترجمان نے امریکی حکام کی جانب سے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا الزام ایران پر عائد کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا عوام یہ بھول جائیں کہ جنگ کا آغاز کس نے کیا اور وہ کون سے اقدامات تھے جن کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش اور تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل پیدا ہوا۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ یہ کوئی نیا حربہ نہیں، ان کے مطابق 1939 میں ہٹلر نے بھی پولینڈ پر حملے کو دفاعی اقدام کے طور پر پیش کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر اپنی مرضی سے جنگ شروع کرنے والا فریق اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کی ذمہ داری متاثرہ فریق پر عائد کرے تو اسے غیر معمولی حکمت عملی سمجھا جائے یا حماقت کی پیش قدمی کی ایک مثال قرار دیا جائے۔
دریں اثنا، اسماعیل بقائی نے ایک اور بیان میں بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے ہیں۔
ان کے مطابق عباس عراقچی نیویارک میں مختلف حکام اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، بات چیت اور مشاورت کریں گے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت سے متعلق خدشات کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق 22 ستمبر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھی، جبکہ مارکیٹ کی توجہ ممکنہ امریکا ایران مذاکرات پر بھی مرکوز رہی۔







