عالمی آرٹ ڈیزائن اینڈ کلچر ہیریٹیج کانفرنس خانسپور میں اختتام پذیر

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان اور وویمن یونیورسٹی مردان کی جانب سے پہلی عالمی آرٹ ڈیزائن اینڈ کلچر ہیریٹیج کانفرنس خانسپور گلیات میں اختتام پذیر ہوگئی کانفرنس کے دوران مختلف موضوعات پر مجموعی طور پر 57تحقیقی مقالے پیش کیے گئے جبکہ 100سے زائد ملکی و بین الاقوامی فنکاروں نے اپنے فن پاروں کی نمائش کی۔ نمائش میں خطاطی، پینٹنگ، اسکیچز، ٹیکسٹائل ورک، ڈیجیٹل آرٹ اور تھری ڈی پینٹنگ سمیت فنونِ لطیفہ کی مختلف اصناف کو پیش کیا گیا۔کانفرنس میں اٹلی، ترکی، آئرلینڈ، پیرو، یوگنڈا اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے محققین اور ماہرین نے بھی اپنے تحقیقی مقالے پیش کیے۔ اس موقع پر پاکستان بھر سے تعلق رکھنے والے معروف فنکاروں نے بھی اپنے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے، جن میں جنرل (ر)ہمایوں بنگش، میجر جنرل (ر)ڈاکٹر فاروق سیر، ڈاکٹر سمیرا جواد،ڈاکٹر رفعت ڈار، طیبہ عزیز، سلیم خٹک،ڈاکٹر فہیم طفیل،اسفندیار افندی یونس مصود، فاتح جاوید اور دیگر معروف فنکار شامل تھے۔ فن پاروں کی نمائش میں ملک کی مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں نے بھی بھرپور شرکت کی۔

نیشنل کالج آف آرٹس لاہور، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، پنجاب یونیورسٹی، پشاور یونیورسٹی، فیصل آباد یونیورسٹی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام اباد،شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شیرنگل، یونیورسٹی آف بونیر، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی، جامعہ سندھ جامشورو، ہوم اکنامکس یونیورسٹی، سیالکوٹ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف فیصل آباد، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان اور ویمن یونیورسٹی مردان سمیت مختلف اداروں کے فنکاروں اور طلبہ نے اپنے فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے۔کانفرنس کے آخری روز مختلف علمی اور تحقیقی نشستوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں آرٹ، ثقافت، زبان، موسیقی، ڈرامہ، تاریخ اور سماجی موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اختتامی نشست کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال اور سابق کمشنر مردان ڈاکٹر جاوید مروت تھے۔اس موقع پر ڈاکٹر گلزار جلال نے پشتو ڈرامے کے سو سالہ سفر کے موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کیا، جبکہ معروف شاعر و دانشور اباسین یوسفزئی اور ڈاکٹر بخت زادہ دانش نے پشتو زبان اور اس کے ادبی و ثقافتی پہلوں پر تفصیلی گفتگو کی۔کانفرنس میں ہندوستانی موسیقی کے تاریخی و موجودہ منظرنامے، جینڈر اسٹڈیز، پختو ٹپہ، پختو کھیل، سرائیکی زبان اور دیگر موضوعات پر بھی تحقیقی مقالے اور علمی گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر راشدہ نے جینڈر اسٹڈیز کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ استاد اللہ بخش کے پوتے نے استاد اللہ بخش کے فن اور فنی ورثے کے حوالے سے گفتگو کی۔وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے آرٹ اور تاریخ کے باہمی تعلق پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فن صرف جمالیاتی اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشروں کی تاریخ، تہذیب اور اجتماعی شعور کو محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔کانفرنس میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور اعلی تعلیمی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر اکرام اللہ خان مروت، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بونیر پروفیسر ڈاکٹر جمشید علی خان، وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال اور دیگر شامل تھے۔اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمدنے کانفرنس میں شرکت کرنے والے ملکی و غیر ملکی محققین، فنکاروں، اساتذہ، طلبہ اور دیگر شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خصوصی طور پر کانفرنس کے منتظمین پرنسپل فضل ستار دورانی، اسفندیار افندی، سنان اور حلیمہ اکرام کی کاوشوں کو سراہا۔پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ آرٹ اور ثقافت کسی بھی معاشرے کی شناخت اور تہذیبی ورثے کا اہم حصہ ہیں، اس لیے جامعات کو چاہیے کہ وہ فنونِ لطیفہ، ثقافت اور تحقیق کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔ انہوں نے مستقبل میں بھی ایسی بین الاقوامی کانفرنسز اور علمی و فنی سرگرمیوں کے انعقاد کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی مختلف جامعات کو مل کر آرٹ اور ثقافت کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا۔دو روزہ عالمی کانفرنس میں تحقیقی مقالوں، فن پاروں کی نمائش اور مختلف علمی و ثقافتی سرگرمیوں نے شرکا کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں پاکستان سمیت مختلف ممالک کے فنکاروں، محققین اور ماہرین نے آرٹ، ثقافت، زبان اور تاریخ کے مختلف پہلوں پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed