خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں عوامی راج کی ضرورت ہے،عطا تارڑ

پی ٹی آئی کو کسی صورت میں اسلام اباد میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ مار دھاڑ اور تشدد کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے منگل کے روز پشاور پریس کلب میں میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا اس موقع پر پشاور پریس کلب کے پریزیڈنٹ ایم ریاض اور جنرل سیکرٹری عالمگیر خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہو کہ قیادت کھل کر دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتی۔ اور نہ کھل کر دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے جس سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ انہیں عوام نے ووٹ ایک قیدی کے چھڑانے کے لیے دیا ہے تو اس سے صوبہ کئی دہائیوں پیچھے چلا جائے گا اور پھر پچھتاوے کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں رہے گا انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف نے جنگلات کی کٹنگ اور مائننگ کے لیے کرپٹ لوگوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ گزشتہ دو روز سے خیبر پختونخواہ میں ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی گزشتہ 13 سال سے حکومت ہے لیکن کوئی ترقیاتی کام نظر نہیں ارہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سے گزارش ہے کہ اج کا راستہ چھوڑ کر افہام و تفہیم کا راستہ اپنایا جائے۔ اور جس قیدی کی رہائی کے لیے وہ غیر قانونی طریقے اپنا رہے ہیں اور مرکز پر چڑھائی کر رہے ہیں اس قیدی کو قانون کے مطابق چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی 13 سالہ حکومت میں کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی اگر فرانزک کے سلسلے میں دیکھا جائے فرانزک لیباٹری ہو یا دیگر ضروری لیبارٹریاں خیبر پختون خوا پنجاب کی ہی مدد حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کو تعلیم صحت اور سیاحت جیسی سہولیات فراہم کرے۔ اج ایک قیدی کو چھڑانے کے لیے مرکز پر چڑھائی کے لیے منصوبہ بندیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک صوبے کا وزیر اعلی پنجاب میں منجی پر لیٹ کر بیانات جاری کر رہا ہے جسے اپنے صوبے کی کوئی فکر ہی نہیں اور لوگوں کو احتجاج پر ورغلا رہا ہے یہ وزیراعلی کا کام نہیں وزیراعلی کا کام صوبے کی خدمت کرنا ہے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے اور گورننس قائم کرنی ہے جبکہ دوسری طرف خیبر پختون خواہ کے عوام ٹیکسز تو دے رہے ہیں لیکن ان کو وہ سہولیات میسر نہیں جو ان کو صوبائی حکومت نے دینی چاہیے تھیں ۔ پاکستان تحریک انصاف نے عوام کے پیسے کو صرف جلسے جلوسوں اور اسلام اباد پر چڑھائی کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے میں ا رہا ہے کہ دہشت گردی سے شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز اور عوام کے جنازوں میں نہ تو پی ٹی ائی کے وزیراعلی موجود ہوتے ہیں اور نہ کوئی صوبائی وزیر موجود ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں تشدد کی بنیاد رکھنے والی پاکستان تحریک انصاف کو اسلام اباد میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں عطااللہ طارق نے کہا کہ وفاق خیبر پختون خوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی خیبر پختون خواہ میں گورنر راج نہیں عوامی راج کی ضرورت ہے۔ عطا اللہ تارون نے کہا کہ خیبر پختون خواہ کے وزیر مشیر اکثر اپنی پریس کانفرنسز میں این ایف سی فنڈ کا رونا روتے ہیں لیکن عوام کو حقیقت سے اگاہ نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ مرکز نیشنل ایکشن پلان کے لیے خیبر پختون خوا حکومت کو این ایف سی کی مد میں ساڑھے 8 سو ارب روپے فراہم کر چکی ہیں۔ جس کا خیبر پختنخواہ حکومت کے پاس ریکارڈ ہی نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین مذاکرات کی بات تو کرتے ہیں لیکن مرکزی حکومت کس سے بات کرے ذمہ دار شخص کون ہے وہ تو خود ایک پارٹی ورکر ہے۔ صوبے کی ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی کاموں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی گئی اور عوامی وسائل کو جلد سے جلسوں پر استعمال کیا گیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اسلام اباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق کسی کو شہریوں کے حقوق غصب کرنے نہیں دیں گے اور عوامی وسائل کا استعمال عوام پر کرنا چاہیے جلسے جلوسوں پر عوامی وسائل کا ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ سانحہ کوہاٹ میں بھی باقاعدہ افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی اور ان کو اس کا جواب بھی دے دیا ہے۔ اور دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ اور کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم ہر اس اقدام کی مخالفت کریں گے جو عوام کے خلاف ہو۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ طارق نے کہا کہ نو مئی کو پاکستان تحریک انصاف کے جتھوں کی جانب سے جلائے گئے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو باقاعدہ تعمیر کر دیا گیا ہے اور اج ہم نے اس کا افتتاح کر دیا ہے اور اس میں باقاعدہ سٹوڈیوز قائم کیے گئے ہیں اور صحافی ائیں اور اسٹوڈیو سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے پورٹ کاسٹ بنائیں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز ازادی صحافت پر مکمل یقین رکھتی ہے اور جہاں جہاں صحافیوں کو تکالیف ہوں گی پاکستان مسلم لیگ کی مرکزی حکومت ذاتی دلچسپی لے کر صحافیوں کے مسائل حل کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed