شانگلہ کی تحصیل کانا کا واحد ڈاکخانہ بند کرنے کا فیصلہ

شانگلہ کی تحصیل کانا کا واحد ڈاکخانہ بند کرنے کا فیصلہ، عوام میں تشویش کی لہر۔نئی تحصیل میں سرکاری دفاتر کے قیام کی توقعات کے برعکس واحد ڈاکخانہ بھی بند، لاکھوں آبادی کے طلبہ، تاجروں، سرکاری خط اور عوام کی خط و کتابت کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا۔ وفاقی و صوبائی حکومت سے ڈاکخانہ فوری بحال کرنے کا مطالبہ۔ لاکھوں آبادی پر مشتمل تحصیل کانا کے واحد سرکاری سب پوسٹ آفس کی بندش کے فیصلے پر طلبہ، تاجروں اور مختلف عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کئی ماہ قبل تحصیل کانا کے قیام کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد علاقے میں انتظامی ڈھانچے کی توسیع اور مختلف سرکاری دفاتر کے قیام کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں تاہم ایسے وقت میں واحد سرکاری ڈاکخانے کی بندش کے فیصلے نے عوامی سہولتوں اور نئی تحصیل کے انتظامی مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔محکمہ ڈاک کی جانب سے جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق کانا سب پوسٹ آفس کی ڈیلیوری سروس فوری طور پر بند کرنے اور وہاں تعینات عملے کو دیگر مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکم نامے میں پوسٹ ماسٹر کو آئی ایس پی ایس ملاکنڈ کے سپرد کرنے جبکہ میل رنر کو الپوری پوسٹ آفس میں تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو تحصیل کانا کی ڈاک الپوری سے تقسیم کرے گا۔ اس کے علاوہ کانا پوسٹ آفس کی عمارت کا ماہانہ کرایہ بھی فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے تحصیل کانا کے قیام کا نوٹیفکیشن کئی ماہ قبل جاری کیا جا چکا ہے جس کے بعد علاقے میں تحصیل عدالتوں، اسسٹنٹ کمشنر، سب ڈویژنل مجسٹریٹ، تحصیلدار اور دیگر اہم سرکاری دفاتر کے قیام کی توقع ہے ایسے میں نئی تحصیل میں سرکاری ڈاکخانے کی سہولت ختم کرنے کے بجائے اسے مزید فعال اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتی ہوئی انتظامی ضروریات کے ساتھ عوام کو بھی بنیادی سہولتیں میسر آسکیں۔خصوصا تحصیل کانا کے طلبہ کیلئے ڈاکخانے کی بندش ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے کیونکہ علاقے کے ہزاروں طلبہ مختلف یونیورسٹیوں، بالخصوص علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت فاصلاتی نظام تعلیم کے اداروں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان طلبہ کی داخلہ کارروائی، تعلیمی دستاویزات، امتحانی مواد، اسائنمنٹس اور دیگر ضروری خط و کتابت کیلئے ڈاک کی سہولت انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ ڈاکخانہ بند ہونے کی صورت میں طلبہ کو اپنی تعلیمی ضروریات کے سلسلے میں الپوری کا رخ کرنا پڑ سکتا ہے جسسے ان کے وقت اور اخراجات میں اضافے کے ساتھ تعلیمی مشکلات بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔عوامی و تجارتی حلقوں کا کہنا ہیں کہ وادی کانا میں نجی کوریئر سروس موجود نہیں جسکے باعث سرکاری و نجی خطوط، کاروباری دستاویزات، تعلیمی مواد اور دیگر ضروری ڈاک کی ترسیل کیلئے محکمہ ڈاک ہی بنیادی ذریعہ ہے ایسے حالات میں کانا کے عوام کو ڈاک کی وصولی کیلئے الپوری جانے پر مجبور کرنا لاکھوں آبادی کیلئے مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔ بالخصوص طلبہ، تاجروں، سرکاری ملازمین، بزرگ شہریوں اور دور دراز علاقوں کے رہائشوں کو اس فیصلے کے باعث شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مختلف عوامی حلقوں نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا ہیں کہ جب صوبائی حکومت نئی تحصیل کے قیام کے ذریعے انتظامی سہولتوں میں اضافے کی جانب پیش رفت کر رہی ہے تو پھر وہاں موجود واحد سرکاری ڈاکخانے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ نئی تحصیل میں سرکاری ڈاکخانے کا قیام اور موجودہ ڈاکخانے کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ ڈاک کی سہولت محض ایک عام سروس نہیں بلکہ تعلیمی، کاروباری، انتظامی اور عوامی رابطوں کا بنیادی ذریعہ ہے۔طلبہ، تاجر برادری اور دیگر عوامی حلقوں نے وفاقی حکومت، وزارت مواصلات اور محکمہ ڈاک کے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کانا سب پوسٹ آفس کی بندش کا فیصلہ واپس لیں، جاری کردہ حکم نامے کو معطل کریں اور ڈاکخانے کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ انھوں نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ نئی تحصیل کانا میں سرکاری ڈاکخانے کی فعالیت اور مستقل قیام کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت اور متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کیا جائے تاکہ لاکھوں آبادی کو ڈاک کی بنیادی سہولت سے محروم ہونے سے بچایا جا سکے۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed