مردان سے تعلق رکھنے والے انصاف لائزفورم کے رہنماء اعجاز خان ایڈووکیٹ کی مبینہ گمشدگی کے خلاف خیبرپختونخوا بار کونسل کی کال پر صوبے بھر میں وکلا نے آج عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے اور اعجاز خان ایڈووکیٹ کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا گیا۔وکلا ء نے اعجاز خان ایڈووکیٹ کی گمشدگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر وکیل کا اس طرح لاپتہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعجاز خان ایڈووکیٹ کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔وکلا کا کہنا تھا کہ وکلا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے حکومت شہریوں اور وکلا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مثر اقدامات کرے۔دریں اثنا وکلا نے کوہاٹ پولیس لائن مسجد میں ہونے والے دھماکے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وکلا نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔وکلا نے شہدا کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی شہدا کے خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب کرے۔وکلا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسجد دھماکے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہدا اور زخمیوں کے خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی جائے۔وکلا کے مطابق دھماکے میں وکیل ملک جواد ایڈووکیٹ بھی زخمی ہوئے ہیں، جن کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔







