پاکستان سعودی دفاع کیلئے کسی بھی حد تک جائے گا

اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب پر کسی بھی حملے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے ’’کسی بھی حد تک‘‘ جانے کو تیار ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے اور ملک سفارتی و عملی دونوں سطحوں پر مملکت کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کو ہر قسم کی جارحیت کے خلاف دفاع فراہم کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان گہرے، تاریخی اور مضبوط تعلقات اس عزم کی بنیاد ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ روز سعودی شہر طائف میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کیا گیا، جس کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ حالیہ حملوں میں 80 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

سعودی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے خلاف سرگرم فوجی اتحاد نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ مکہ مکرمہ کے اطراف ممنوعہ فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک حوثی ڈرون کو بھی روک لیا گیا۔

سعودی عرب کے دفاع سے متعلق واضح مؤقف

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر مکمل طور پر کھڑا ہے اور ’’عملی طور پر‘‘ کے لفظ پر زور دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے عزم میں کوئی ابہام نہیں اور مملکت کو ہر قسم کی جارحیت کے خلاف دفاع فراہم کیا جاتا رہے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان دفتر خارجہ کی گزشتہ ہفتے کی وضاحت کے مقابلے میں زیادہ واضح مؤقف کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اس وقت کسی پاکستانی فوجی ردعمل پر بات نہیں ہو رہی، تاہم پاکستان ’’وقت آنے پر‘‘ کارروائی کرے گا۔

معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا کہ کیا سعودی عرب نے مزید پاکستانی فوجیوں، فضائی دفاعی نظام یا حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی میں پاکستان کی شرکت کی درخواست کی ہے تو انہوں نے اس بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکا ایران تنازع اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت

انٹرویو میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ایران سے متعلق سفارتی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی ماہ تک مذاکرات میں ثالثی کی تھی، جس کے نتیجے میں جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سامنے آئی۔

اس مفاہمتی یادداشت میں جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت علاقائی سلامتی سے متعلق تنازعات کے حل کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں فوجی کشیدگی میں اضافے اور معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو ’’متفقہ دستاویز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے نزدیک موجودہ پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کے لیے یہی ’’واحد حقیقی راستہ‘‘ ہے۔

انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بداعتمادی، رکاوٹیں پیدا کرنے والوں اور مخالفت کرنے والوں کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed