پشاور ہائیکورٹ نے پاکستانی خاتون کے افغان شوہر اور ان کے بچوں کی ملک سے جبری بے دخلی روکتے ہوئے نادرا کو ہدایت کی ہے کہ ان کا کیس چھ ماہ کے اندر قانون کے مطابق نمٹایا جائے۔ عدالتِ عالیہ نے درخواست گزاروں کو اپنے افغان پروف آف رجسٹریشن (POR) کارڈ کی منسوخی اور پاکستان اوریجن کارڈ (POC) و سیٹزن سمارٹ کارڈ کے حصول کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت کی۔ کیس کی سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل اسامہ خلیل ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مدعیہ یاسمین پاکستانی شہری ہیں جنہوں نے افغان باشندے فیاض سے شادی کی ہے اور ان کے بچے بھی ہیں۔ وکیل نے موقف اپنایا کہ نیشنل سپاؤس پالیسی اور نادرا رولز کے رول 4 کے تحت درخواست گزار کا شوہر اپنا اور اپنے بچوں کا پی او آر کارڈ منسوخ کرا کے پاکستان اوریجن کارڈ حاصل کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچے پاکستان میں پیدا ہوئے اور ان کے پاس برتھ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ موجود ہیں، لیکن پی او آر کارڈز کے باعث نادرا نے ان کا پراسیس بلاک کر رکھا ہے جو بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی ورزی ہے۔فاضل بینچ نے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر قرار دیا کہ پشاور ہائیکورٹ اس سے قبل بھی اس نوعیت کے کیسز پر فیصلے جاری کر چکی ہے۔ عدالت نے نادرا کو حکم دیا کہ وہ نیچرلا ئزیشن کے تمام قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد چھ ماہ کے اندر شادی کی بنیاد پر ان کا کیس طے کرے، اور جب تک اس کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، تب تک درخواست گزار اور اس کے خاندان کی پاکستان سے جبری ملک بدری پر مکمل پابندی رہے گی۔







