پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے "بنوں گل سٹی” کے نام سے نئے رہائشی منصوبے کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کے جاری کردہ اعلامیے کو معطل کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے کیس کی سماعت کے بعد متعلقہ حکومتی حکام کو باقاعدہ نوٹس جاری کر کے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس طارق آفریدی اور جسٹس ثابت اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست گزار نور افضل و دیگر کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر کی۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل پیر حمید اللہ شاہ ایڈووکیٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت نے 10 ہزار کنال سے زائد رقے پر اربوں روپے کا ہاؤسنگ منصوبہ شروع کرنے کے لیے 27 جنوری 2026ء کو اعلامیہ جاری کیا تھا۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ اس منصوبے کے لیے مالکان کی رضامندی کے بغیر ان کی قیمتی زرعی اراضی شامل کی گئی ہے، جبکہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ اسٹامپ پیپرز کے ذریعے اجازت حاصل کی گئی، بالکل خلافِ حقیقت ہے۔وکیلِ صفائی نے مزید کہا کہ بنوں میں پہلے ہی بکاخیل، مہاجر کیمپ اور لنڈی جالندھر میں ہزاروں کنال غیر زرعی متبادل اراضی موجود ہے جہاں یہ منصوبہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بنوں میں پہلے سے موجود دسیوں غیر فعال اور نامکمل سوسائٹیوں کی موجودگی میں زرعی زمین کو تباہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ فاضل بینچ نے ابتدائی دلائل مکمل ہونے پر حکومت کے اعلامیے کو معطل کرنے کا حکم سنا دیا۔







