ٹیسلا اور اسپیس ایکس سے وابستہ ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے کہا ہے کہ وہ کئی سال قبل ہی مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور اس کی حفاظت کے معاملے پر غور کر رہے تھے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے نک بوسٹروم کی 2014 میں شائع ہونے والی کتاب ’سپر انٹیلی جنس‘ میں تعاون کیا تھا۔ ان کے مطابق کتاب کے مصنف نے پیش لفظ میں ان کا نام بھی شامل کیا تھا۔
مسک نے اپنی تقریباً 12 سال پرانی ایک پوسٹ کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے بوسٹروم کی کتاب پڑھنے کی تجویز دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنے پر زور دیا تھا۔
انہوں نے اس وقت اے آئی کو ممکنہ طور پر جوہری ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے اس کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت پر بات کی تھی۔
ایلون مسک کا یہ حالیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو اموڈی نے جدید اے آئی ماڈلز کی تیز رفتار ترقی کو سست کرنے اور حفاظتی اقدامات میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔







