انکوائری رپورٹ میں پمز انتظامیہ کی ناکامی کے باعث بچوں کی ہلاکت ثابت

اسلام آباد کے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں رونما ہونے والے آتشزدگی کے دلخراش واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نرسری میں شاٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑکی، جس میں اسپتال انتظامیہ کی سنگین غفلت اور ناکامی واضح طور پر سامنے آئی ہے۔

تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق ایئر کنڈیشنر کی بجلی کی کیبل میں خرابی کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسی قسم کی تخریب کاری، آئیسکو فالٹ، آکسیجن لیکیج یا انکیوبیٹر میں نقص کے شواہد نہیں ملے۔ اگرچہ فرنٹ لائن عملے نے ابتدائی طور پر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی اور کسی فرد پر براہ راست مجرمانہ فعل ثابت نہیں ہوا، تاہم وارڈ میں دھوئیں کی نشاندہی اور الارم کا خودکار نظام موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ جولائی میں نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگنے کے بعد دی گئی فائر سیفٹی وارننگز پر بھی کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔

حادثے کے وقت 10 بیڈز پر مشتمل نرسری میں گنجائش سے زیادہ یعنی 15 نومولود بچے زیرِ علاج تھے، جن میں سے 14 بچے جاں بحق ہو گئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کی اموات کسی ایک نظام کی ناکامی نہیں بلکہ یکے بعد دیگرے ناقص حفاظتی اقدامات کا نتیجہ تھیں۔ کمیٹی نے واقعے کے بعد اسپتال میں فائر سیفٹی اور برقی نظام کا فوری آڈٹ کرانے، ہنگامی انخلا کے لیے خصوصی ایس او پیز تیار کرنے اور تمام حفاظتی الارم سسٹمز کو معطل سے فعال بنانے کی سفارش کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed