لاہور: ملک کو درپیش بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے سائبر سکیورٹی کے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وفاقی حکومت نے 90 روزہ سائبر سکیورٹی اسٹریٹجک ایکشن پلان کی منظوری دیتے ہوئے صوبوں کو کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمز (CERTs) کے قیام کا عمل تیز کرنے اور پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026 (PISF) پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
معتبر ذرائع کے مطابق یہ فیصلے نیشنل کمیٹی فار انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز کے دوسرے اجلاس میں کیے گئے، جو کابینہ ڈویژن میں سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور چیئرمین این سی آئی سی ایس کی زیر صدارت ہوا۔
اجلاس کے دوران ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کے تناظر میں فوری اور عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان انفارمیشن سکیورٹی فریم ورک 2026 پہلے ہی منظور ہوچکا ہے، جس پر وفاقی اور صوبائی سطح پر عملدرآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔
نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (NCERT)، جو سائبر سکیورٹی ورکنگ کمیٹی کی سربراہی کرتی ہے، نے اجلاس میں جامع سائبر سکیورٹی اسٹریٹجک ایکشن پلان پیش کیا۔ اس منصوبے میں آئندہ 90 روز کے دوران کیے جانے والے اہم اقدامات شامل ہیں۔
ایکشن پلان میں گورننس، قواعد و ضوابط کی پابندی، وسائل میں ہم آہنگی، سائبر واقعات سے نمٹنے، بحران کے انتظام، سائبر سکیورٹی اسیسمنٹ اور سپلائی چین سکیورٹی سمیت مختلف اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بالخصوص سرکاری افسران کے لیے نیشنل سائبر سکیورٹی ہینڈ بک بھی تیار کرلی گئی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے چیئرمین نے وفاقی کمپیوٹر کو فعال بنانے کے لیے محتاط اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی کہ اس وقت سیکٹرل اور صوبائی سطح پر کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمز موجود نہیں ہیں۔







