افغان میڈیکل طلبہ کی بے دخلی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کا حکم امتناع

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کو میڈیکل کالجز سے بے دخل کرنے کے خلاف درخواست پر حکم امتناع جاری کردیا ہے۔

جسٹس خالد اسحاق نے صبیحہ دفتانی، وحیدہ اسد رسول سمیت 13 افغان شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ افغان میڈیکل طلبہ کی جانب سے ایڈووکیٹ اسد جمال نے عدالت میں دلائل دیے۔

درخواست میں وفاقی حکومت، ہائیر ایجوکیشن، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے یو ایچ ایس، پی ایم ڈی سی اور متعلقہ میڈیکل کالجز سے جواب بھی طلب کرلیا۔

درخواست گزاروں کے مطابق افغان طلبہ پنجاب کے مختلف میڈیکل کالجز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں متعدد طلبہ میڈیکل کے چوتھے اور پانچویں سال میں زیر تعلیم ہیں۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ علامہ محمد اقبال 4500 اسکالرشپ پروگرام کے تحت افغان طلبہ کو مکمل فنڈڈ نشستیں فراہم کی گئی تھیں۔ طلبہ کے پاس پاکستانی اسٹڈی ویزے اور درست پاسپورٹس بھی موجود ہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہیں کلیئرنس حاصل کرنے کے نام پر واپس افغانستان بھیجنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ غیر ملکی ایکٹ 1946 کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مخصوص حکم موجود نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ کسی طالب علم کا قیام منسوخ کرنے یا ان کی اجازت تبدیل کرنے کا انفرادی فیصلہ بھی سامنے نہیں آیا۔ درخواست گزاروں نے افغان طلبہ کی واپسی کے احکامات کو غیرقانونی، من مانا اور غیرآئینی قرار دیا۔

درخواست کے مطابق پی ایم ڈی سی کی جانب سے افغان طلبہ کو واپس جانے کی ہدایات دی گئی ہیں، جبکہ مختلف میڈیکل کالجز نے بھی نوٹیفکیشن جاری کرکے طلبہ کو اداروں سے کلیئرنس لینے اور افغانستان روانہ ہونے کی ہدایت کی۔

افغان طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ میڈیکل کالجز کی انتظامیہ انہیں زبردستی بے دخل کرسکتی ہے۔ درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا کہ یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم افغان طالبات کو پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کا خدشہ ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث افغان میڈیکل طلبہ کی کلاسز، امتحانات اور ہاسٹل سہولیات متاثر ہوسکتی ہیں۔

درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی کہ افغان طلبہ کو میڈیکل تعلیم مکمل ہونے تک جبری ملک بدری سے روکا جائے اور انہیں تعلیم جاری رکھنے، امتحانات میں شرکت اور ہاسٹل میں رہائش کی اجازت دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed