شانگلہ کے علاقے بیلہ امنوی میں زین ولد جان زیب کے دو منزلہ رہائشی مکان میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید آتشزدگی کے نتیجے میں دو منزلہ مکان مکمل طور پر خاکستر ہوگیا جبکہ گھر میں موجود فرنیچر، کپڑے، بستر، گھریلو استعمال کا سامان، برقی آلات اور دیگر قیمتی اشیا سمیت لاکھوں روپے مالیت کا سامان جل کر راکھ ہوگیا۔آگ لگنے کے بعد مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوششیں کیں تاہم آگ کی شدت کے باعث مکان اور اس میں موجود سامان کو شدید نقصان پہنچا اور مکان اب ملبے اور خاکستر کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔خوش قسمتی سے آتشزدگی کے اس افسوسناک واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے تاہم متاثرہ خاندان کو مالی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔متاثرہ شخص زین ولد جان زیب نے بتایا کہ اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور برسوں کی محنت سے یہ مکان تعمیر کیا تھا۔ اس کیلئے یہ گھر صرف ایک عمارت نہیں بلکہ عمر بھر کی محنت اور جمع شدہ سرمایہ تھا جو اچانک لگنے والی آگ کے باعث مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کیلئے دوبارہ مکان تعمیر کرنا ممکن نہیں اور وہ اس قدر مالی استطاعت نہیں رکھتے کہ اپنے طور پر نیا گھر تعمیر کرسکیں۔متاثرہ خاندان نے وفاقی حکومت، خیبرپختونخوا حکومت، متعلقہ حکام، منتخب نمائندوں اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہیں کہ ان کی حالت زار کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مالی امداد اور خصوصی پیکیج فراہم کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے گھر کی تعمیر کرسکیں اور اپنے خاندان کے لیے چھت کا انتظام کر سکیں۔اہل علاقہ نے بھی حکومت اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہیں کہ آتشزدگی سے متاثرہ خاندان کی فوری مالی معاونت کی جائے اور انہیں گھر کی دوبارہ تعمیر کے لیے خصوصی امداد فراہم کی جائے، کیونکہ متاثرہ خاندان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہوچکا ہے اور موجودہ حالات میں تباہ شدہ مکان دوبارہ تعمیر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔







