خیبر پختونخوا کابینہ کا 58واں اجلاس
وفاقی حکومت کی ناکامیاں، صوبائی تعصب اور خیبر پختونخوا کی شاندار کارکردگی
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے 58ویں صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک کی موجودہ معاشی اور سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "جعلی اور مسلط کردہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور وہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔
معاشی بدحالی اور قرضوں کا ہوشربا بوجھ
وزیر اعلیٰ نے ملکی معیشت کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہوشربا اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 74 برسوں میں پاکستان کا مجموعی قرضہ 43 ہزار ارب روپے تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر موجودہ وفاقی حکمرانوں نے محض پانچ برسوں کے عرصے میں اس میں 97 ہزار ارب روپے کا ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بے تحاشا اور غیر متناسب قرضے کا بوجھ بالآخر ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو اٹھانا پڑے گا۔ مہنگائی کے اس طوفان میں سفید پوش طبقہ، جو کبھی عزت کی زندگی گزارتا تھا، اب دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ حکومت کے پاس ریونیو جنریشن کا کوئی واضح ہدف نہیں ہے اور ملکی نظام محض مزید قرضے لے کر چلایا جا رہا ہے۔
صوبائی تعصب اور ریاستی اداروں کا کردار
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے مرکز اور دیگر صوبوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے مبینہ متعصبانہ رویے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے قومی مفادات کے بجائے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے بیانات سے ریاستی بیانیے کو نقصان پہنچا ہے اور عالمی سطح پر ملک دشمن عناصر کو تقویت ملی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزراء کے خیبر پختونخوا کے خلاف بیانات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
مزید برآں، ریاستی اداروں کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ادارے ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف پریس کانفرنسز میں ویڈیوز چلاتے ہیں یا عدلیہ کی جانب سے غیر ضروری ریمارکس دیے جاتے ہیں، تو اس سے صوبے کے عوام میں شدید احساسِ محرومی اور غصہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اداروں کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ وفاق کی وحدت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کی شاندار کارکردگی اور اہداف
وفاق کی مسلسل ناکامیوں کے برعکس، وزیر اعلیٰ نے اپنی حکومت کی معاشی کامیابیوں کو فخر کے ساتھ نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ آنے والی خیبر پختونخوا کی حکومت ملک کی وہ واحد حکومت ہے جس نے اپنے اہداف سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی ہے۔
گزشتہ مالی سال کی وصولی: ہدف 129 ارب روپے تھا، جبکہ حکومت نے 150 ارب روپے سے زائد کا ریکارڈ ریونیو اکٹھا کیا۔
رواں سال کا ہدف: رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
متوقع کامیابی: حکومت پرعزم ہے کہ عوام پر نیا ٹیکس لگائے بغیر یہ ریونیو 200 ارب روپے سے متجاوز کر جائے گا۔
انہوں نے اسے حقیقی عوامی خدمت قرار دیا، جہاں عوام پر مہنگائی کا نیا بوجھ ڈالے بغیر صوبائی وسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
کرپشن پر زیرو ٹالرنس اور میرٹ کی بالادستی
اپنے خطاب کے آخر میں، وزیر اعلیٰ نے کابینہ، بیوروکریسی اور پولیس حکام کو واضح پیغام دیا کہ موجودہ حکومت پاکستان تحریک انصاف اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن پر کاربند ہے۔ صوبے میں کرپشن، اقربا پروری اور غیر قانونی کاموں کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے منصوبوں میں کی جانے والی سخت سکروٹنی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میرٹ پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو ہی کوالیفائی کیا گیا ہے، جبکہ جعلی بینک گارنٹی اور نامکمل کاغذات کے ساتھ سفارش پر آنے والوں کو سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ایسے عناصر کو بھی تنبیہ کی جو سرکاری افسران کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
"جو افسران میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس پر کام کر رہے ہیں، میں ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں۔ ڈرانے دھمکانے والوں کو آخری حد تک روکا جائے گا۔”
انہوں نے ایماندار اور فرض شناس افسران کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ہر قدم پر ان کی پشت پناہ رہے گی۔







