بھارت اور پاکستان کیلئے ٹیسٹ کھیلنے والے منفرد کرکٹر

کرکٹ کی تاریخ میں صرف تین کھلاڑی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے تقسیم ہند سے پہلے بھارت کے لیے اور بعد میں پاکستان کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔گل محمد بھی انہی تین میں سے ایک تھے، اور ان کا نام اس فہرست میں ہی نہیں، دنیائے کرکٹ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ کے ریکارڈ میں بھی ہمیشہ کے لیے کندہ ہو چکا ہے۔
گل محمد 15اکتوبر 1921کو لاہور میں پیدا ہوئے، قد میں صرف پانچ فٹ پانچ انچ، مگر بیٹنگ میں بلا کے جارح، بائیں ہاتھ کے اوپننگ بیٹسمین، ساتھ ہی ایک مئوثر میڈیم پیس بولر اور کورز میں بہترین فیلڈر، صرف 17 برس کی عمر میں انہوں نے بمبئی پینٹا گولر ٹورنامنٹ میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا اور پہلے ہی میچ میں 95 رنز بنا کر سب کو حیران کر دیا۔
بڑودہ کے مہاراجہ نے خود گل محمد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا، جہاں پہلے سے ہی وجے حضارے، سی کے نائیڈو اور راجہ عامر الہی جیسے بڑے نام موجود تھے۔
پھر آیا 1946-47 کا وہ دن جس نے گل محمد کا نام کرکٹ کی تاریخ میں امر کر دیا۔ رانجی ٹرافی کے فائنل میں بڑودہ کا مقابلہ ہولکر سے تھا۔ ہولکر کی ٹیم صرف 202 رنز پر آئوٹ ہو گئی مگر سی کے نائیڈو کی بولنگ نے جواب میں بڑودہ کو 91رنز پر 3 وکٹوں کے نقصان پر مشکل میں ڈال دیا۔ اسی وقت گل محمد وجے حضارے کے ساتھ کریز پر آئے۔
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
دونوں نے مل کر ایسی بلے بازی کی جو آج بھی افسانوی معلوم ہوتی ہے۔ 533منٹ تک، یعنی تقریبا نو گھنٹے تک، وہ کریز پر جمے رہے۔ انہوں نے سب سے پہلے للا امرناتھ اور روسی موڈی کے 410رنز کے ہندوستانی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑا، پھر فرینک ویریل اور کلائیڈ والکاٹ کے 574 رنز کے عالمی ریکارڈ کو بھی توڑ ڈالا۔ جب گل محمد 319رنز پر آئوٹ ہوئے، تو دونوں کی شراکت 577 رنز تک پہنچ چکی تھی، چوتھی وکٹ کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور۔ وجے حضارے 288 رنز پر ناقابل شکست رہے۔
گل محمد اور وجے حضارے کا عالمی ریکارڈ
پارٹنرشپ: 577 رنز، چوتھی وکٹ
گل محمد: 319 رنز
وجے حضارے: 288 رنز
دورانیہ: 533 منٹ
مقام: رانجی ٹرافی فائنل، بڑودہ بمقابلہ ہولکر، سن 1946-47

یہ ریکارڈ تقریبا ً60 سال تک فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں کسی بھی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت رہا، جب تک 2006میں کمار سنگاکارا اور مہیلا جے وردنے نے اسے نہیں توڑا۔ آج بھی، یہ چوتھی وکٹ کے لیے دنیا کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔
گل محمد نے سن 1946 میں انگلینڈ اور سن 1947-48 میں آسٹریلیا کا دورہ بھارت کی طرف سے کیا، مجموعی طور پر بھارت کے لیے 8 ٹیسٹ کھیلے۔ مگر تقسیم ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور 15 اکتوبر 1956کو کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف پاکستان کے پہلے تاریخی ٹیسٹ میں شامل ہوئے، جہاں انہوں نے 12 اور ناقابل شکست 27 رنز بنائے اور پاکستان نے یہ میچ 9 وکٹوں سے جیتا۔
بین الاقوامی سطح پر ان کی بیٹنگ کبھی اس معیار تک نہ پہنچ سکی جو ان کی گھریلو کرکٹ میں نظر آتا تھا، مجموعی طور پر 9 ٹیسٹ میں صرف 205 رنز، اوسط 12.81۔ مگر فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کا ریکارڈ ناقابل یقین رہا، 118 میچوں میں 5614 رنز، 12 سنچریاں، اوسط 33.81۔
ریٹائرمنٹ کے بعد گل محمد ایک قابل کوچ اور کرکٹ ایڈمنسٹریٹر بن گئے، اور پاکستان کرکٹ کی خدمت جاری رکھی۔ 8 مئی 1992کو ان کا انتقال ہوا۔ ان کے قریبی ساتھیوں نے انہیں ہمیشہ ایک ایسا انسان قرار دیا جو کھیل کے علم اور دیانتداری میں اپنی مثال آپ تھا۔
گل محمد کا نام شاید آج کی نسل کے لیے اجنبی ہو، مگر ان کی 577 رنز کی وہ شراکت، اور دو ممالک کی نمائندگی کرنے کا نایاب اعزاز، انہیں کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے منفرد بنا دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed