سعودی عرب پر ڈرون حملے کے واقعے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلی فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا جبکہ سعودی عرب نے ڈرون حملوں کا نشانہ بننے کے بعد مشرقی،مغربی آئل پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق عراقی وزیرِاعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق ایک عراقی فوجی کمانڈر کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا، جب تحقیقات میں تصدیق ہوئی کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملے عراق سے کیے گئے تھے۔بیان کے مطابق برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔عراقی وزیرِاعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق عراق نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد احتیاطا شلمچہ بارڈر کراسنگ بند کر دی۔ عراقی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ عراقی وزیراعظم نے حملوں کے حالات اور اس کے پسِ پردہ فریقین کے بارے میں فوری تحقیقات کرنے اور حملے میں ملوث ثابت ہونے والے ہر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن پر عراق سے ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ عراقی وزیراعظم کی درخواست پرفی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ مشرقی مغربی پائپ لائن ریاض اور مدینہ ریجن میں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ پائپ لائن پر حملوں کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت عارضی شٹ ڈاون کیا گیا۔ دریں اثنا خلیجی اور مسلم ممالک کی تنظیموں نے ہفتے کے روز سعودی عرب کی مشرقی سے مغربی سمت جانے والی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی ہیں جو علاقائی سلامتی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل)، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، قطر اور بحرین نے ہفتے کی صبح جاری کیے گئے اپنے بیانات میں حملے کی مذمت کی۔سفارتی ذرائع کے مطابق قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہیکہ شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت اقدام ہے، حملے بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی اور کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہے۔قطر کا کہنا ہیکہ شہری اور اقتصادی تنصیبات پر حملے علاقائی سلامتی اور استحکام کے لئے نقصان دہ ہیں، برادر ملک سعودی عرب کے ذمہ دارانہ موقف کو سراہتے ہیں۔یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے جب عراقی حدود سے آنے والے متعدد ڈرونز نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں واقع تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور مالی نقصان بھی ہوا۔قطر اور بحرین نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔مسلم ورلڈ لیگ نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کی۔ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں لیگ کے سیکریٹری جنرل شیخ محمد بن عبدالکریم العیسی نے ڈرون حملوں کو بدترین مجرمانہ حملے قرار دیا جو تمام مذہبی اصولوں، بین الاقوامی ضابطوں اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے الاخباریہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں تنظیم کا یہ بیان جاری کیا۔ علاوہ ازیںسعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے ترکیہ اور قطر کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔ غیرملیک خبر رساںادارے کے مطابق فیصل بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے دوران گفتگو علاقائی صورتحال پر بات چیت کی، دونوں رہنماں نے علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے قطری وزیراعظم سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا، قطری وزیراعظم نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کی مذمت کی ۔ ادھر عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کے درمیان بھی ہفتے کی صبح ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔یہ رابطہ عراقی سرزمین سے سعودی عرب کی مشرق-مغرب تیل پائپ لائن کی جانب ڈرون بھیجے جانے کے بعد ہوا۔عراقی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں ہونے والی تازہ پیش رفت اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔بغداد کے مطابق دونوں جانب سے دونوں ممالک کے درمیان رابطے، تعاون اور مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔







