موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن شاپنگ اور ویڈیو گیمز کے حد سے زیادہ استعمال سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک عالمی ۱۲ نکاتی پروگرام فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ سال ۲۰۱۷ء میں شروع ہونے والے اس پروگرام سے اس وقت دنیا بھر میں ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں جو سات مختلف زبانوں میں آن لائن اور بالمشافہ میٹنگز کے ذریعے ایک دوسرے کو ٹیکنالوجی کے صحت مند استعمال کی حدود قائم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ طریقہ کار بنیادی طور پر ۱۹۳۵ء میں قائم ہونے والی تنظیم ’الکوحلکس اینانیمس‘ کے ۱۲ نکاتی اصولوں پر مبنی ہے، جسے وقت کے ساتھ جوئے، بے تحاشا خریداری، زیادہ کھانے اور اب ٹیکنالوجی کی لت جیسے مسائل کے حل کے لیے بھی اپنایا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں فرد یہ تسلیم کرتا ہے کہ انٹرنیٹ پر اس کا کنٹرول ختم ہو چکا ہے اور اس کی زندگی متاثر ہو رہی ہے، جس کے بعد وہ زندگی کو دوبارہ متوازن بنانے اور ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کا عزم کرتا ہے۔
پروگرام کے اگلے مراحل میں فرد اپنی عادات کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطیوں اور خامیوں کو کسی قابلِ اعتماد شخص کے سامنے تسلیم کرتا ہے اور ان کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد کی فہرست بھی تیار کی جاتی ہے جنہیں اس رویے سے نقصان پہنچا ہو تاکہ ممکنہ حد تک ان سے معذرت اور ازالہ کیا جا سکے۔ آخری مراحل میں مسلسل ذاتی محاسبے، مراقبے یا روحانی مشقوں اور حاصل شدہ تجربات کو دیگر متاثرہ افراد تک پہنچانے پر زور دیا جاتا ہے۔







