ڈریسنگ روم لیکس پر دو کرکٹرز سے تفتیش کی گئی

لاہور: انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران ڈریسنگ روم کی معلومات لیک ہونے کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی کرکٹ ٹیم کے دو کھلاڑی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے دائر کردہ شکایت پر سائبر کرائم ایجنسی نے کرکٹر امام الحق اور محمد رضوان کو نوٹسز جاری کر کے لاہور کے دفتر میں طلب کیا، جہاں ان سے تقریباً چار گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔ تفتیش کے دوران دونوں کھلاڑیوں نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مزید وقت مانگ لیا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فونز پہلے ہی پی سی بی کی جانب سے انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کیے جا چکے ہیں تاکہ ان کا فارنسک معائنہ کیا جا سکے۔ یہ کارروائی انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں ناکامی کے بعد سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجے جانے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ شکایت پی سی بی کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے درج کرائی گئی تھی، جبکہ این سی سی آئی اے بھی وزارت داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہے۔ پی سی بی کے ترجمان نے تحقیقات کی تصدیق کی ہے تاہم جاری انکوائری کے باعث مزید تبصرے سے گریز کیا۔

قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے خلاف کرکٹ سیریز کے دوران ہی لاء انفورسمنٹ ایجنسی کو باضابطہ شکایت درج کرایا جانا ایک بے مثال اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر پی سی بی کے اندرونی ڈسپلنری پینل یا آئی سی سی ٹربیونل کے ذریعے ہی کارروائی کی جاتی رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed